تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 304 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 304

تاریخ احمدیت جلد ۲ ٣٠١ مونوی کرم دین صاحب کا دوسرا طویل مقدمه اگر وہ مجھ سے اس بارے میں گفتگو کرتے تو جو کچھ نیوگ کرانے کیفا ئدے ہیں سب ان کے سامنے بیان کرتا۔حضرت اقدس کو جب ایک ذمہ دار آریہ سماجی لیڈر کی نیوگ جیسے مسئلہ کے بارے میں یہ رائے پہنچی تو حضور نے " سناتن دھرم " کے نام سے ۸۔مارچ ۱۹۰۳ء کو ایک دوسرا مختصر رسالہ شائع فرمایا جو "نسیم دعوت " کا تمہ کہنا چاہئے۔حضور نے " سناتن دھرم" میں نیوگ کی بناء پر آریہ سماج کی خوب قلعی کھولی۔ساتھ ہی سناتن دھرمیوں کی تعریف بھی فرمائی کہ سناتن دھرم والے ان کی چند باتوں کو الگ کر کے آریہ سماجیوں سے ہزار ہا درجہ بہتر ہیں۔وہ اپنے پر میٹر کی اس طرح بے حرمتی نہیں کرتے کہ ہم انادی اور غیر مخلوق ہونے کی وجہ سے اس کے برابر ہیں۔وہ نیوگ کے قابل شرم مسئلہ کو نہیں مانتے۔وہ اسلام پر بیہودہ اعتراض نہیں کرتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام کی باتیں سب قوموں میں مشترک ہیں۔A " «نسیم دعوت " اور "سناتن دھرم کا انگریزی ایڈیشن چنده ماه بعد ان دونوں کتابوں کا انگریزی ایڈیشن بھی شائع کیا گیا اور ان کی متعدد کاپیاں مفت تقسیم کی گئیں۔ود مسجد الیست" و "بیت الدعا" کی تعمیر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بچپن ہی سے ذکر الہی اور دعا سے جو عشق اور شغف تھاوہ اب آخری سالوں میں بڑھتا جا رہا تھا۔چنانچہ اب آپ اکثر فرمایا کرتے کہ اب تبلیغ و تصنیف کا کام تو ہم اپنی طرف سے کر چکے ہیں اب ہمیں باقی ایام میں دعا میں مصروف ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل خاص سے دنیا میں حق و صداقت قائم فرمائے اور ہمارے آنے کی غرض پوری ہو۔چنانچہ حضور نے اسی آرزو کی تکمیل کے لئے ۱۳۔مارچ ۱۹۰۳ء کو جمعہ کے بعد بیت الفکر کے ساتھ غربی جانب ایک مقدس کمرہ کی بنیاد رکھی جس کا نام "مسجد الیت " اور "بیت الدعا" تجویز فرمایا۔حضور نے "مسجد الیت " اور "بیت الدعا" کے بارے میں ایک بیت الدعا کی غرض و غایت فرمایا۔دفعہ اپنے مخلص صحابی حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے "ہم نے سوچا کہ عمر کا اعتبار نہیں۔ستر سال کے قریب عمر سے گزر چکے ہیں۔موت کا وقت مقرر نہیں خدا جانے کس وقت آجائے اور کام ہمارا ابھی بہت باقی ہے۔ادھر قلم کی طاقت کمزور ثابت ہوئی ہے۔رہی سیف اس کے واسطے خدا تعالٰی کا اذن اور نشاء نہیں۔لہذا ہم نے آسمان کی طرف ہاتھ