تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 299
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹۶ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر الحسن من ھیں ، شاه حسین گولڑوی، منشی لنگر گولڑہ بطور گواہ پیش ہوئے۔۱۶/ جولائی ۱۹۰۳ء کو منشی غلام حیدر صاحب تحصیل دار اور مولوی عبد الکریم صاحب کی شہادتیں ہوئیں۔مولوی عبد الکریم صاحب کا بیان مختصرا یہ تھا کہ (حضرت) مرزا صاحب کی خط و کتابت میں کرتا ہوں جو خطوط (حضرت) مرزا صاحب کی طرف سے آتے ہیں وہ براہ راست ان کی خدمت میں نہیں پہنچتے۔ان میں سے اکثر خطوط کو میری طرف جواب دینے کے لئے بھیج دیتے ہیں۔مرزا صاحب کی مجلس میں بیٹھنے کا وقت (ظهر) کی نماز سے کسی قدر پہلے ہے اور مغرب سے شام کی نماز پڑھ کر عشاء کی نماز تک برابر بیٹھے رہتے ہیں۔جن خطوط کا تعلق عام بہتری اور مصالح کے ساتھ ہوتا ہے ان کو مجلس میں سنا دیتا ہوں۔خط و کتابت کا کام میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے محض رضا کارانہ کرتا ہوں۔قبل ازیں استغاثہ کی طرف سے پیر مہر علی شاہ صاحب کو بھی بلایا گیا تھا لیکن انہوں نے اپنے وکیل دیوان سنت رام ایڈووکیٹ گورداسپور کی طرف درخواست دی کہ میرے ہزاروں مرید ہیں اور کم از کم چار پانچ سو مرید میرے ساتھ آئیں گے اس لئے اندیشہ نقض امن ہے۔دوسرے سائکل بیمار ہے اس لئے بذریعہ کمیشن شہادت کی جائے۔مجسٹریٹ صاحب نے ڈاکٹری سرٹیفکیٹ طلب کیا جو ۱۶ / جولائی ۱۹۰۳ء کو پیش کر دیا گیا اور ان کو حاضری سے معاف کر دیا گیا۔اگلے دن ۱۷۔جولائی ۱۹۰۳ء کو وکیل استغاثہ نے پیر صاحب کی شہادت کے لئے دوبارہ درخواست دی جو رد کر دی گئی۔شہادت صفائی کے لئے ۱۹ / اگست ۱۹۰۳ء کی تاریخ مقرر تھی۔ملزم نے اس شہادت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حکیم فضل دین صاحب کو مزید جرح کے لئے بلوایا تھا چنانچہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۔اگست ۱۹۰۳ء کو نماز ظہر و عصر جمع کر کے گورداسپور کے لئے روانہ ہوئے۔حضور کے ہمراہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ( ایدہ اللہ تعالٰی) بھی تھے۔۱۲ بجے کے قریب گورداسپور پہنچے۔عدالت میں ایک نشان کا ظہور ۱۹ اگست کی صبح کو حضور کو الہام ہوا کہ یسئلونک عن شانك قل الله ذرهم في خوضهم يلعبون يعني تیری شان کے بارے میں پوچھیں گے کہ تیری شان اور تیرا مرتبہ کیا ہے۔کہ اوہ خدا ہے جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے۔پھر ان کو اپنی لہو و لعب میں چھوڑ دے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کا بیان ہے کہ جب یہ الہام ہوا تو حضور کے پاس صرف میں اور مفتی محمد صادق صاحب ہی تھے۔حضرت اقدس لیٹے ہوئے تھے اور ایسا معلوم ہو تا تھا کہ سو رہے ہیں۔اس حالت میں حضور نے سر اٹھایا اور فرمایا کہ مجھے الہام ہوا ہے لکھ لیں۔اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت