تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 298
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۹۵ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد شر خوشی پہنچانے کے لئے ایسا اتفاق ہوا کہ آتما رام نے اس مقدمہ میں اپنی ناضمی کی وجہ سے پوری غور نہ کی اور مجھ کو سزائے قید دینے کے لئے مستور ہو گیا۔اس وقت خدا نے میرے پر ظاہر کیا کہ وہ آتما رام کو اس کی اولاد کے ماتم میں مبتلا کرے گا چنانچہ یہ کشف میں نے اپنی جماعت کو سنا دیا۔اور پھر ایسا ہوا کہ قریباً بیس پچیس دن کے عرصہ میں دو بیٹے اس کے مر گئے۔اور آخر یہ اتفاق ہوا کہ آتمار ام سزائے قید تو مجھ کو نہ دے سکا۔اگر چہ فیصلہ لکھنے میں اس نے قید کرنے کی بنیاد بھی باندھی مگر اخیر پر خدا نے اس کو اس حرکت سے روک دیا لیکن تاہم اس نے سات سو روپیہ جرمانہ کیا۔پھر ڈویژنل جج کی عدالت سے عزت کے ساتھ میں بری کیا گیا اور کرم دین پر سزا قائم رہی اور میرا جرمانہ واپس ہوا مگر آتمارام کے دو بیٹے واپس نہ آئے۔پس جس خوشی کے حاصل ہونے کی کرم دین کے مقدمہ میں ہمارے مخالف مولویوں کو تمنا تھی وہ پوری نہ ہو سکی اور خدا تعالٰی کی اس پیش گوئی کے مطابق جو میری کتاب مواہب الرحمن میں پہلے سے چھپ کر شائع ہو چکی تھی میں بری کیا گیا اور میرا جرمانہ واپس کیا گیا اور حاکم مجوز کو منسوخی حکم کے ساتھ یہ تنبیہ ہوئی کہ یہ حکم اس نے بے جا دیا۔مگر کرم دین کو جیسا کہ میں مواہب الرحمن میں شائع کر چکا تھا سزا مل گئی اور عدالت کی رائے سے اس کے کذاب ہونے پر مہر لگ گئی اور ہمارے تمام مخالف مولوی اپنے مقاصد میں نامراد رہے۔افسوس کہ میرے مخالفوں کو باوجود اس قدر متواتر نا مرادیوں کے میری نسبت کسی وقت محسوس نہ ہوا کہ اس شخص کے ساتھ درپردہ ایک ہاتھ ہے جو ان کے ہر ایک حملہ سے اس کو بچاتا ہے۔اگر بد قسمتی نہ ہوتی تو ان کے لئے یہ ایک معجزہ تھا کہ ان کے ہر ایک حملہ کے وقت خدا نے مجھ کو ان کے شرسے بچایا اور نہ صرف بچایا بلکہ پہلے اس سے خبر بھی دے دی کہ وہ بچایا جائے گا اور ہر ایک مرتبہ اور ہر ایک مقدمہ میں خداتعالی مجھے خبر دیتا رہا کہ میں تجھے بچاؤں گا۔چنانچہ وہ اپنے وعدے کے موافق مجھے محفوظ رکھتا رہا۔" tt مولوی کرم دین صاحب کے خلاف مقدمات مولوی کرم دین صاحب کے دائر شدہ مقدمہ کے واقعات کے بعد اب ان مقدمات کے مختصر حالات بیان کرتے ہیں جو خود مولوی کرم دین صاحب کے خلاف دائر تھے۔پہلا مقدمہ حکیم فضل دین صاحب کے زیر دفعہ ۴۲۰ تھا۔مولوی کرم دین صاحب پہلا مقدمہ نے اپنے خلاف جملہ مقدمات کے بارے میں عدالت عالیہ چیف کورٹ میں درخواست دی که یه گورداسپور سے فتقل کئے جائیں لیکن یہ درخواست نامنظور ہوئی۔اور گورداسپور عدالت میں ہی ان کی کارروائی شروع ہوئی۔چنانچہ استغاثہ کی طرف سے ۲۳ / جون ۱۹۰۳ء کو مفتی سلیم اللہ صاحب لاہور اور فقیر محمد صاحب مالک سراج الاخبار ۲۴ / جون ۱۹۰۳ء کو