تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 297
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۹۴ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد مستر کو وکیل کرنے کی بھی ضرورت نہ رہی۔مگر خدائی بشارت کے عین مطابق ڈویژنل جج صاحب امر تر نے تاریخ ۷ / جنوری ۱۹۰۵ ء حضرت اقدس کو ہر الزام سے بری کر دیا اور مولوی کرم دین صاحب کے تمام عذرات کو رد کر کے خاص طور پر اپنے فیصلہ میں لکھا کہ۔مستغیث کذاب اور نسیم وغیرہ الفاظ کا بالکل مستحق تھا تاکہ عوام الناس اس امر کا اندازہ لگا سکیں کہ مستغیث کے فعل اور قول کی کیا وقعت ہونی چاہئے۔؟" سراج الاخبار " میں شائع شدہ مضامین کے بارے میں لکھا کہ ان سے ایک دانستہ منصوبہ چال بازی اور خلاف بیانی اور جعل سازی کا ظاہر ہوتا ہے جس پر بے حیائی سے ایک عام اخبار کی سطروں میں دنیا کے سامنے فخر کیا گیا ہے۔۔۔مستغیث نے ان کی تردید کے بارے میں یا ان کے نو سندہ ہونے سے انکار کرنے کی بابت کبھی کوئی تحریر اخبار میں نہیں بھیجی۔اندرونی شہادت سے دلالت ہوتی ہے کہ سوائے مستغیث کے کسی اور نے یہ مضامین تحریر نہیں کئے۔بے شک مرزا صاحب کا کوئی مرید ایسا کام نہیں کر سکتا۔نو۔سندہ اپنی چالا کی پر نمات خوش معلوم ہوتا ہے۔اور غالبا اس کار روائی کی عزت کسی اور کو دینا پسند نہیں کرتا۔مستغیث نے اس تحریر کو جو اس کی بیان کی جاتی ہے شناخت کرنے میں اس قدر ٹال مٹول کیا ہے کہ ہم اس پر کوئی اعتبار نہیں کر سکتے۔" اس فیصلہ کے آخری الفاظ یہ تھے کہ " بہت ہی افسوس ہے کہ ایسے مقدمہ میں جو کارروائی کے ابتدائی مرحلہ پر ہی خارج کیا جانا چاہئے تھا اس قدر وقت ضائع کیا گیا ہے۔لہذا ہر دو طرمان مرزا غلام احمد و حکیم فضل دین بری کئے جاتے ہیں۔ان کا جرمانہ واپس دیا جائے گا۔" جرمانہ کی واپسی فیصلہ کے مطابق ۲۴ / جنوری ۱۹۰۵ء کو جرمانہ واپس ہوا۔جو مولوی محمد علی صاحب خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے گورداسپور کے سرکاری خزانہ سے وصول کیا۔مقدمہ کا ذکر سید نا حضرت مسیح موعود کے قلم مبارک سے ہونا حضرت صحیح موعود عليه الصلوة و السلام اس نشان کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔کرم دین نام ایک مولوی نے فوجداری مقدمہ گورداسپور میں میرے نام دائر کیا اور میرے مخالف مولویوں نے اس کی تائید میں آتما ر ام اکسٹرا اسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں جاکر گواہیاں دیں اور ناخنوں تک زور لگایا۔اور ان کو بڑی امید ہوئی کہ اب کی دفعہ ضرور کامیاب ہوں گے اور ان کو جھوٹی