تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 296 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 296

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۹۳ سید نا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد سفر نے کہا کہ آپ لکھ دیں کہ سات سو روپے کے نوٹ پیش کئے گئے تھے مگر چونکہ وہ مدارس کراچی کے تھے اس لئے عدالت نے قبول نہیں کئے۔اس پر وہ عاجز آگیا۔کیوں کہ گو بازار میں دوکاندار در اس۔کراچی کے نوٹ نہ لیں لیکن گورنمنٹ اپنے نوٹ برٹش انڈیا کی حدود کے اندر لینے سے انکار نہیں کر سکتی۔چار و ناچار اس نے نوٹ قبول کر لئے اور بصد حسرت و یاس حضرت اقدس اور حکیم صاحب کو جانے کی اجازت دے دی۔۵۶ لاله آتما رام صاحب بھی اپنے پیش رو رائے لالہ آتمارام صاحب قبرالی کی زد میں چندو لال کی طرح قہر الہی کی زد سے نہ بچ سکے۔۵۸ خدا کے مامور سے جو ظالمانہ اور انسانیت سوز سلوک انہوں نے روا رکھا اس کی پاداش میں دوران مقدمہ میں ہی خدا تعالی کی طرف سے یہ سزاملی کہ ان کے دولڑکے حضرت اقدس مسیح موعود کی پیش گوئی کے مطابق صرف ہیں پچیس دن کے مختصر سے وقفہ میں مرگئے اور ان کے گھر میں صف ماتم بچھ گئی۔حضور پر بذریعہ کشف ظاہر کیا گیا تھا کہ آتما رام صاحب اپنی اولاد کے ماتم میں مبتلا ہوں گے۔اور آپ نے یہ کشف پہلے سے اپنی جماعت کو سنا بھی دیا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کا بیان ہے کہ (لالہ آتمارام) کا بیٹا ریا میں ڈوب کر مر گیا اور وہ اس غم میں نیم پاگل ہو گیا۔اس واقعہ کا اتنا اثر تھا کہ وہ لدھیانہ کے سٹیشن پر مجھے ملا اور بڑے الحاج سے کہنے لگا کہ دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے صبر کی توفیق دے۔مجھ سے بڑی بڑی غلطیاں ہوتی ہیں اور میری حالت ایسی ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ میں کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔چیف کورٹ میں حضرت اقدس کی مولوی کرم دین صاحب نے اپنے مقدمہ میں سب سے زیادہ زور اس امر پر دیا تھا کہ "تیم" بریت اور مولوی کرم دین صاحب کے کے لفظ کے معنی (جسے مرزا صاحب نے اس کے جرمانہ کی بحالی اور کذاب ہونے پر مہر متعلق استعمال کیا ہے) ولد الزنا کے ہیں۔اور کذاب کے یہ معنی ہیں جو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہو۔حضرت اقدس اور آپ کے وکلاء کا موقف یہ تھا کہ یہ لفظ ان معنوں پر مستعمل نہیں۔پہلی عدالت نے یہی معنی تسلیم کئے اور اسی بناء پر جرمانہ کیا۔مگر عین اس وقت جب مقدمہ زور شور سے جاری تھا اللہ تعالی کی طرف سے حضور کو الہام ہوا کہ "معنی دیگر نہ پسندیم ما جس کی تقسیم یہ ہوئی کہ دوسری عدالت میں یہ معنی قائم نہیں رہیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔۵/ نومبر ۱۹۰۴ء کو مسٹر اے۔ای ہری صاحب ڈویژنل حج امر تسر کی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی گئی جس پر حکام نے مستغیث کی مدد کے لئے سرکاری وکیل مقرر کر دیا اور دشمن