تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 284 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 284

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۸۱ سیدنا حضرت مسیح موعود کے گورداسپور کی طرف متعدد خر ۱۳ / جنوری ۱۹۰۴ء کی پیشی کے لئے حضرت حضرت مسیح موعود کا سفر گورداسپور اقدس مسیح موعود علیہ السلام ۱۲ جنوری ۱۹۰۴ء کو قادیان سے بٹالہ کے راستہ سے گورداسپور کو روانہ ہوئے اور قریباً ساڑھے تین بجے کے قریب گورداسپور پہنچے۔رات کو بہت سے احباب مختلف مقامات سے حاضر ہو گئے۔اس دن خواجہ کمال الدین صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود کی طرف سے ایک تحریری بیان پیش کیا جو چھپا ہوا تھا۔مجسٹریٹ صاحب نے زبانی تسلیم کیا تھا کہ تحریری بیان دے دیں۔مجسٹریٹ صاحب نے پہلے تو یہ بیان اپنے اقرار کے مطابق لے لیا لیکن پھر انہوں نے اس کا شامل مسل ہو نا نا منظور کر دیا۔۱۴ جنوری ۱۹۰۴ء کو حضور عدالت میں تشریف نہ لے جاسکے اور ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ پر آپ کو حاضری عدالت سے ایک ماہ کی اجازت ملی اور حضور اسی روز شام کو بذریعہ ریل بٹالہ آئے۔رات یہیں قیام فرمایا اور دوسرے دن (۱۵/ جنوری ۱۹۰۴ء کو قریباً دس بجے روانہ ہو کر قادیان تشریف لے N انتقال مقدمہ کے لئے درخواست اور مجسٹریٹ صاحب اب تک ہر مرحلہ پر جو اپنی جانب دارانہ بلکہ مخالفانہ روش کا مظاہرہ کرتے نا منظوری اور مقدمہ کا نازک ترین دور آ رہے تھے اس کی بناء پر ۴۔فروری ۱۹۰۴ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ بہادر ضلع گورداسپور کی عدالت میں انتقال مقدمہ کی درخواست کی گئی جو ۱۲ / فروری ۱۹۰۴ء کو رد کر دی گئی۔اس پر چیف کورٹ کی طرف رجوع کیا گیا۔پیشی کے لئے ۲۲/ فروری ۱۹۰۴ء کا دن مقرر ہوا۔گو ابھی چیف کورٹ کا فیصلہ نہیں ہوا تھا مگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے درخواست انتقال کی نا منظوری سے ہی مقدمہ نے انتہائی نازک صورت اختیار کر لی کیوں کہ مقدمہ پھر لالہ چند و لال صاحب ہی کی عدالت میں زیر سماعت آگیا اور وہ کھلم کھلاد شمنی پر اتر آئے۔اور ا کا اثر تھا کہ یکا یک گورداسپور کا ماحول حضرت مسیح موعود اور حضور کے خدام کے خلاف خطا مخالفت کی آماجگاہ بن گیا اور اب اس میں برملا مختلف متوحش افواہیں پھیل گئیں۔افواہیں بے وجہ نہیں حضرت مسیح موعود کو قید کرنے کا منصوبہ اور اس میں ناکامی تھیں بلکہ لالہ چندو لال صاحب فی الحقیقت یہ منصوبہ کر چکے تھے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خواہ ایک دن کے لئے سی ضرور نظر بند کر دیا جائے مگر خدا تعالی ہی کی طرف سے کچھ ایسے سامان پیدا ہوئے کہ مجسٹریٹ صاحب کی یہ ناپاک سازش ناکام ہو گئی۔چنانچہ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کا بیان ہے۔