تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 277
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۷۴ - "مواهب الرحمن " کی تصنیف و اشاعت کی کوٹھری میں تشریف لے گئے۔دروازہ بند تھا۔حضور نے دستک دی۔مولوی صاحب نے لاعلمی سے پوچھا کون ہے ؟ حضرت اقدس نے جواب دیا غلام احمد۔مولوی محمد احسن صاحب نے دروازہ کھولا۔حضور نے فرمایا کہ مجھے ایک کشفی صورت میں خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ میرے گھر سے (یعنی حضرت ام المومنین) کہتی ہیں کہ اگر میں فوت ہو جاؤں تو میری تجہیز و تکفین آپ خود اپنے ہاتھ سے کرنا۔اس کے بعد مجھے ایک بڑا منذر الہام ہو ا غاسق اللہ۔مجھے اس کے معنی یہ معلوم ہوئے ہیں کہ جو بچہ میرے ہاں پیدا ہونے والا ہے وہ زندہ نہ رہے گا اس لئے آپ دعا میں مشغول ہوں اور باقی احباب کو بھی اس کی تحریک کریں۔د اللہ تعالٰی نے ان دعاؤں کے طفیل حضرت ام المومنین کو اس مصیبت کی گھڑی سے نجات وفات بخشی مگر صاجزادی امتہ النصیر صاحبہ کی موت سے متعلق خدا کا نوشتہ پورا ہوا اور صاحبزادی صاحبہ ۳۔دسمبر ۱۹۰۳ء کو انتقال فرما گئیں اور اپنے خاندانی قبرستان میں دفن کی گئیں۔مولوی شیر علی صاحب کا بیان ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام صاجزادی امتہ النصیر صاحبہ کو قبرستان میں وفتانے کے لئے لے گئے اور خود اسے اٹھا کر قبر کے پاس لے گئے۔کسی نے آگے بڑھ کر حضور سے لڑکی کو لینا چاہا مگر حضور نے فرمایا میں خود لے جاؤں گا۔