تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 272
تاریخ احمدیت جلد ۲ ہوئے۔۲۶۹ مواهب الرحمن " کی تصنیف و کا فیصلہ اور حضور کی بریت جہلم سے واپسی کے بعد عدالت نے حسب اعلان ۱۹/ جنوری ۱۹۰۳ء کو فیصلہ سناتے ہوئے حضرت مسیح موعود کو بری کر دیا اور مولوی کرم دین کے استغاثہ جات خارج کر دئے۔فاضل مجسٹریٹ رائے سنسار چند نے اپنے فیصلہ میں تعزیرات ہند کی روشنی میں متعدد ایسی وجوہ تحریر کیں جن کی بناء پر مستغیث کو محمد حسن فیضی (متوفی) کی بیوہ باپ اور اولاد کی موجودگی میں استغاثہ دائر کرنے کا قانونا کوئی حق حاصل نہیں ہے خواہ وہ ان پڑھ ہیں یا پڑھے ہوئے۔اس فیصلہ پر مولوی کرم دین صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود ، حکیم فضل دین صاحب، مولوی عبداللہ صاحب اور ایڈیٹر الحکم کے خلاف سیشن جج بہادر جہلم کی عدالت میں نگرانی دائر کی جو خارج ہو گئی۔الخقرار یک برکات من ار یک برکات من كل طرف " کا روح پرور نظارہ کل طرف کی عظیم الشان خوش خبری جو خدا تعالیٰ نے سفر جہلم کے آغاز میں دی تھی اس شان سے پوری ہوئی کہ اپنے اور بیگانے سبھی دنگ رہ گئے۔اس سفر میں عوام کی طرف سے حضور کی زیارت کے لئے جس عظیم جذبہ کا مظاہرہ کیا گیا وہ ملکی تاریخ میں فقید المثال تھا۔چنانچہ ایک مخالف اخبار " پنجنہ فولاد " نے لکھا۔۱۵ جنوری کو دوپہر کے بعد جہلم کی واپسی پر مرزا غلام احمد صاحب قادیانی وزیر آباد پہنچے۔باوجودیکہ نہ انہوں نے شہر میں آنا تھا اور نہ آنے کی کوئی اطلاع دی تھی اور صرف اسٹیشن پر ہی چند منٹوں کا قیام تھا پھر بھی ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر خلقت کا وہ ہجوم تھا کہ تل دھرنے کو جگہ نہ ملتی تھی۔اگر سٹیشن ماسٹر صاحب جو نہایت خلیق اور ملنسار ہیں خاص طور پر اپنے حسن انتظامی سے کام نہ لیتے تو کچھ شک نہیں کہ اکثر آدمیوں کے کچلے جانے اور یقینا کئی ایک کے کٹ جانے کا اندیشہ تھا۔مرزا صاحب کے دیکھنے کے لئے ہندو اور مسلمان یکساں شوق اور یکساں دلی کشش سے موجود تھے۔" حضرت اقدس مسیح موعود نے اس مبارک سفر کی تفصیل میں تحریر فرمایا۔14 ” جب میں ۱۹۰۳ء میں کرم دین کے فوج داری مقدمہ کی وجہ سے جہلم جارہا تھا تو راہ میں مجھے الہام ہوا۔اریک بركات من كل طرف یعنی میں ہر ایک پہلو سے تجھے برکات دکھلاؤں گا اور یہ الهام اسی وقت تمام جماعت کو سنا دیا گیا بلکہ اخبار الحکم میں درج کر کے شائع کیا گیا۔اور یہ پیش گوئی اس طرح پوری ہوئی کہ جب میں جہلم کے قریب پہنچا تو تخمینا دس ہزار سے زیادہ آدمی ہو گا کہ وہ میری ملاقات کے لئے آیا اور تمام سڑک پر آدمی تھے اور ایسے انکسار کی حالت میں تھے کہ گویا سجدے کرتے