تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 11
تاریخ احمدیت ، جلد ۲ " مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام حضور نے اس میموریل میں آنحضرت ﷺ کے خلاف پادریوں کی دریدہ دہنی اور فحش گوئی اور بد زبانی کی طرف حکومت کو توجہ دلاتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ قرآن مجید میں پہلے سے یہ خبر موجود ہے کہ ایک زمانہ آئے گا کہ عیسائی اپنے اعتراضات کے ذریعہ سے مسلمانوں کو بڑی اذیت پہنچائیں گے۔پس پادریوں کی ان ناشائستہ حرکات سے بھی اسلام ہی کی سچائی ثابت ہوتی ہے۔اس میموریل کے علاوہ (جو اپنی ذات میں عیسائی تصنیف "البلاغ "یا " فریاد درد" حکومت کے لئے تبلیغ اسلام کا ایک مئوثر ذریعہ بھی تھا) حضور نے دوسرا کام یہ کیا کہ انہی دنوں ایک کتاب "البلاغ" تصنیف فرمائی جس میں حضور نے مخالفین اسلام کے جواب میں دنیا کی مختلف زبانوں میں لٹریچر شائع کرنے کی ایک جامع سکیم مسلمانوں کے سامنے رکھی اور انہیں بتایا کہ اس وقت تک کروڑوں کتابیں عیسائیوں کی طرف سے شائع ہو چکی ہیں۔اس صورت میں اگر نقض امن کے اندیشہ کی تدبیر یہی ہے جو انجمن حمایت اسلام کو اب سو جھی کہ میموریل بھیجوایا جائے تو آج تک کم از کم ایک کروڑ میموریل حکومت کو جانا چاہیے تھا۔پس میموریل اس کا کوئی علاج نہیں۔اس وقت پادریوں کی زہریلی تحریرات اور ملحدانہ فلسفہ نے اسلام پر یورش کر رکھی ہے اور امہات المومنین کی طرز کی کتابوں کا سیلاب اما آ رہا ہے پس ایسی صورت میں دفاع کی صرف ایک ہی قابل عمل صورت ہے اور وہ یہ کہ ایک موزوں شخص کا انتخاب کیا جائے جو اعتراضات کا مجموعہ تیار کر کے نہ صرف نرمی اور متانت سے ان کا جواب تحریر کرے۔بلکہ اسلامی تعلیم کی عمدگی ایسے دلکش انداز میں ثابت کر دکھائے کہ پادریوں کی ساٹھ سالہ دجالانہ کارروائیاں خاک میں مل جائیں اور اسلام کا منور چہرہ آفتاب کی طرف سامنے آجائے۔اسلامی مدافعت سرانجام دینے والے شخص کی خصوصیات اسلامی مدافعت کا یہ فریضه نهایت درجه نازک پیچیدہ اور کٹھن تھا اور حضور ایک عرصہ سے اس میدان میں مصروف جہاد تھے۔لہذا حضور نے اس کتاب میں وہ خصوصیات بھی تحریر فرما دیں جو مدافعت اسلامی کا کام کرنے والے شخص میں پائی جانی ضروری ہیں۔یہ خصوصیات مندرجہ ذیل تھیں۔ا۔وہ زبان عرب میں یکتائے روزگار ہو۔اس کی دینی معرفت میں صرف یہی کافی نہیں کہ چند حدیث اور فقہ اور تفسیر کی کتابوں پر اسے عبور ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیق اور تدقیق اور لطائف اور نکات اور براہین یقینیہ پیدا کرنے میں فی الواقعہ حکیم الامت اور ز کی النفس ہو۔