تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 223
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۲۰ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی پیرایہ میں حافظ محمد یوسف صاحب کے غلط مسلک کی تردید کر کے خدا تعالی کی فعلی شہادتوں سے اپنی صداقت کے متعدد ثبوت پیش فرمائے نیز لکھا کہ " ندوۃ العلماء " کو دینی مسئلہ میں حکم قرار نہیں دے سکتا۔لہذا امر تسر جانے کی ضرورت نہیں۔ہاں " ندوۃ العلماء " حافظ صاحب سے ایسے مدعیان نبوت کا حلفا ثبوت مانگے جن کی وحی کاذب کا قرآن شریف کی طرح سے تئیس برس تک برابر سلسلہ جاری رہا اور ان سے ثبوت مانگے کہ کہاں انہوں نے قسم کے ساتھ بیان کیا کہ ہم در حقیقت نبی ہیں اور ہماری وحی قرآن کی طرح قطعی یقینی ہے اور یہ بھی ثبوت مانگے کہ کیا وہ لوگ اس زمانے کے مولویوں کے فتوے سے کافر ٹھہرائے گئے ہیں یا نہیں۔اگر نہیں ٹھہرائے گئے تو اس کی کیا وجہ۔کیا ایسے مولوی فاسق فاجر تھے یا نہیں جنہوں نے دین میں ایسی لاپروائی ظاہر کی۔اور یہ بھی ثبوت مانگے کہ ایسے لوگ کن قبروں میں دفن کئے گئے ؟ کیا مسلمانوں کی قبر میں یا علیحدہ۔اور اسلامی سلطنت میں قتل ہوئے یا امن سے عمر گزاری؟ حافظ صاحب سے تو یہ ثبوت طلب کیا جائے۔دوسری طرف پھر میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حد- شیہ کے طلب ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ کے قادیان میں آئیں اور مجھ سے معجزات اور دلائل یعنی نصوص قرآنیہ اور حد - شیہد کے ثبوت لیں۔پھر اگر سنت انبیاء علیہم السلام کے مطابق میں نے پور اثبوت نہ دیا تو میں راضی ہوں کہ میری کتابیں جلائی جائیں"۔HA ندوۃ العلماء" کے جلسہ میں شمولیت کے لئے وفد حضرت اقدس نے تحفتہ الندوہ کے ذریعہ تبلیغ کا حق 14 ادا کر دیا تھا مگر اتمام حجت کے لئے حضور نے ۱۹ اکتوبر کو جلسہ میں شمولیت کے لئے قادیان سے ایک وفد بھی بھیجا جس میں مندرجہ ذیل احباب شامل تھے مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی (امیروند) مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب سیالکوٹی۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب ہزار وی۔مولوی محمد عبداللہ صاحب کشمیری - شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر اخبار الحکم- امر تسر پہنچ کر وفد کو یہ علم ہوا کہ حافظ صاحب نے ندوہ والوں سے مشورہ کے بغیر از خود اشتہار وغیرہ دے دیا ہے اور ندوہ کے سیکرٹری سے اس بارہ میں قطعا کوئی اجازت یا مشورہ تک حاصل نہیں کیا گیا۔انذار فد نے جلسہ کے تینوں دن انفرادی رنگ میں سلسلہ حقہ کا پیغام پہنچایا اور " تحفتہ الندوہ " اور " دعوة الندوہ " تقسیم کر کے اس کی خوب اشاعت کی۔