تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 199
تاریخ احمدیت جلد ۲ 194 تعریف نبوت میں تبدیلی فقر اور روحانی فیوض کا مبداء سادات ہی کو ٹھرایا ہے۔اور میں نے بھی اپنے کشف میں ایسا ہی پایا ہے۔حضور یہ ذکر فرماہی رہے تھے کہ ایک یورپین ! السلام علیکم کہتے ہوئے مطب میں آپہنچے۔حضرت اقدس کے ایماء پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب ترجمان مقرر ہوئے۔حضرت اقدس نے ان کے آنے کا سبب دریافت فرمایا۔معلوم ہوا کہ ڈی۔ڈی ڈکسن نامی ایک فرنگی سیاح ہیں جو عرب۔کربلا اور کشمیر کی سیاحت کرتے ہوئے یہاں صرف ایک دن کے قیام کا پروگرام لے کر آئے ہیں اور آئندہ مصر الجیریا اور سوڈان جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔حضرت اقدس نے ان سے باصرار کہا کہ جب آپ نظارہ عالم کے لئے گھر سے نکلے ہیں تو قادیان میں بھی ایک ہفتہ کے لئے ٹھہرئیے مگر اصرار کے باوجود صرف ایک رات رہنے پر رضامند ہوئے۔حضرت اقدس یہ ہدایت دے کر کہ شیخ مسیح اللہ خانساماں ان کے حسب منشاء کھانا تیار کریں اور ان کو گول کمرہ میں ٹھہرایا جائے اندرون خانہ تشریف لے گئے۔مولوی محمد علی صاحب اور بعض دوسرے احباب انہیں مدرسہ تعلیم الاسلام دکھانے لے گئے۔سکول کی لائبریری میں ناٹو وچ روی سیاح کی کتاب " مسیح کی نا معلوم زندگی کے حالات" دیکھ کر ڈکسن نے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی جسے پورا کر دیا گیا۔کتاب لئے وہ گول کمرے میں آئے جہاں حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب اور مفتی محمد صادق صاحب مناسب رنگ میں انہیں تبلیغ کرتے رہے۔صحیح کی قبر کشمیر، عربی ام الالسنہ اور جماعت احمدیہ کی امتیازی خصوصیات کے بارے میں خصوصاً گفتگو ہوتی رہی۔عصر کی نماز کے بعد انہوں نے حضرت اقدس کے تین فوٹو لئے۔رو فوٹو آپ کے خدام کے ساتھ اور ایک فوٹو صرف آپ کا الگ لیا۔دوسرے دن صبح چونکہ ڈکسن صاحب نے بٹالہ کی طرف واپس جانا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی ان کی مشایعت کے لئے بٹالہ کی طرف ہی سیر کو نکلے اور نہر کے پل تک تشریف لے گئے اور انہیں الوادع کہا۔دوران سیر حضور نے ڈکسن صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ایک پر جوش تقریر فرمائی جس میں اپنے دعوئی کی غرض و غایت بتائی کہ پاک زندگی جو گناہ سے بچ کر ملتی ہے وہ ایک لعل تاباں ہے جو کسی کے پاس نہیں ہے۔ہاں خدا تعالٰی نے وہ لعل تاباں مجھے دیا ہے۔اور مجھے اس نے مامور کیا ہے کہ میں دنیا کو اس لعل تاباں کے حصول کی راہ بتادوں۔اس راہ پر چل کر میں دعوئی سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص یقینا یقیناً اس کو حاصل کرے گا۔فلاسفر آسمان اور زمین کو دیکھ کر اور دوسرے مصنوعات کی ترتیب ابلغ و محکم پر نظر کر کے صرف اتنا بتا تا ہے کہ کوئی صانع ہونا چاہئے۔مگر میں اس سے بلند تر مقام پر لے جاتا ہوں۔مسٹرڈ کسن حضرت اقدس کے دینی خیالات، آپ کے حسن سلوک اور مہمان نوازی سے بہت