تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 192
تاریخ احمدیت - جلد ۲ 1A9 اس اقتباس سے مندرجہ ذیل امور بالکل واضح ہیں۔ا جس امر کا امت کو وعدہ ہے وہ نبوت اور پیش گوئیاں ہیں۔تعریف نبوت میں تبدیلی -۲ نبوتوں اور پیش گوئیوں کی وجہ سے پہلے انبیاء نبی کہلائے (حالانکہ سابق تعریف نبوت اس سے مختلف تھی۔۔یہی نبوتیں اور پیش گوئیاں جن کی وجہ سے پہلے انبیاء نبی کہلائے امت محمدیہ کا وعدہ ہے۔- آیت انعمت علیہم گواہی دیتی ہے کہ مصفی غیب سے یہ امت محروم نہیں۔مصفی غیب سے حسب منطوق آيت فلا يظهر على غيبه احدا الا من ارتضى من رسول نبوت ورسالت کو چاہتا ہے۔مصفی غیب کا منا( جو نبوت اور رسالت کو چاہتا ہے ) براہ راست بند ہے۔ے۔اس لئے مانا پڑا کہ اس موہت کے لئے یعنی مصفی غیب کی موہت کے لئے جو نبوت و رسالت کو چاہتا ہے صرف بروز خلیت اور فنافی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔بروز علیت فنافی الرسول مومن کی ترقی کا انتہائی مقام نہیں بلکہ انتہائی مقام کے حصول کا ذریعہ ہے المختصر اس اقتباس کا یہ صاف نتیجہ ہے کہ نبوت پہلے براہ راست ملا کرتی تھی بند ہونے کے بعد اب وہی موہت رسول کریم ان کے واسطہ سے ملا کرے گی۔پس نفس نبوت کے ملنے میں پہلے انبیاء اور امت محمدیہ میں ہونے والے نبی میں کوئی فرق نہیں۔فرق صرف حصول کے ذریعہ میں ہے۔سابقہ تعریف نبوت میں نبی کے لئے جو شرائط مقرر تھیں وہ اس جگہ مذکور نہیں۔صرف ایک امر جو نبوت کے لئے ذاتی ہے وہ مصفی غیب کا منایا بالفاظ دیگر نبوتیں یا پیش گوئیاں ہیں جن کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلائے۔یہی امر نبوت کے لئے ذاتی ہے باقی امور یعنی نئی شریعت کا لانایا شریعت میں ترمیم و تنسیخ یا اس کا مستقل اور براہ راست ہونا یا بالواسطہ ہونا نبوت کے لئے ذاتی امور نہیں بلکہ عرضی حقائق ہیں جو کسی نبی میں پائے جاتے ہیں کسی میں نہیں۔اشتہار " ایک غلطی کا ازالہ " کی اشاعت کے بعد پوری جماعت کا رجحان اشتہار کا اثر اپنوں پر اس طرف : و گیا کہ حضور نفس نبوت کے لحاظ سے بیچ بیچ نبی ہیں اور ویسے ہی نبی ہیں جیسے پہلے انبیاء تھے گو ذریعہ حصول نبوت میں فرق ہے یعنی پہلے انبیاء کو براہ راست نبوت تفویض ہوئی تھی مگر حضور کو حضرت رسول کریم ان کی غلامی میں یہ منصب ملا ہے۔اور اسی لئے آپ کا منصب "امتی نبی کا ہے محض نبی کا نہیں۔چوہدری فتح محمد صاحب سیال کا حلفیہ بیان ہے کہ