تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 184 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 184

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۵- نزول المسیح صفحه ۷۴ رسالہ " ریویو آف ریالیور " کی تجویز ۲۶- نزول المسیح صفحہ ۷۹۶۷ حاشیہ۔پیر صاحب کے خط کا متن " محی و مخلصی مولوی کرم الدین صاحب سلامت باشند و علیکم السلام و رحمہ اللہ۔اما بعد ایک نسخہ بذریعہ ڈاک یا کسی آدم معتبر فرستاده خواهد شد - آپ کو واضح ہو کہ اس کتاب (سیف چشتیائی) میں تردید متعلق تفسیر فاتحہ (یعنی اعجاز المسیح) جو فیضی صاحب مرحوم و مغفور کی ہے باجازت ان کے مندرج ہے چنانچہ فیمابین تحریر او نیز مشافتہ جہلم میں قرار پا چکا تھا بلکہ فیضی صاحب مرحوم کی درخواست پر میں نے تحریر جواب شمس بازند پر مضامین ضرور یہ لاہور میں ان کے پاس بھیج دیے تھے اور ان کو اجازت دی تھی کہ وہ اپنے نام پر طبع کرار ہویں۔افسوس کہ حیات نے وفا نہ کی اور نہ وہ میرے مضامین مرسلہ مجھے لاہور میں ملے۔آخر الا مر مجھ کو ہی یہ کام کرنا پڑا۔لہذا آپ سے ان کی کتابیں مستعملہ منگوا کر تفسیر کی تردید مندرجہ حسب اجازت تبغیر مائی گئی ہے۔آئندہ شاید آپ کو یا مولوی غلام محمد صاحب کو تکلیف اٹھانی ہوگی۔والسلام۔" ( منقول از نزول اصبح حاشیه صفحه ۷۹ پیر صاحب کا یہ ادعا کہ صرف اعجاز ا مسیح کی تردید کا حصہ فیضی صاحب کا لکھا ہوا ہے باقی میں نے تحریر کیا ہے کتاب کی اندرونی شہادت کے خلاف ہے کیوں کہ اس کے صفحہ ۸۵ پر یہ الفاظ موجود ہیں۔" پیر مہر علی شاہ صاحب کے لئے آپ ہر چند دانت پیستے رہے مگر ان کی شہرت ہی شہرت اور عزت ہی عزت ہوتی رہی۔صاف ظاہر ہے کہ یہ الفاظ لکھنے والے بہر حال خود پیر صاحب موصوف نہیں ہو سکتے۔۲۷ الحکم ۲۸/ جنوری ۱۹۳۸ء صفحه ۴۰ کالم ۳ بحواله تبلیغ رسالت جلد ۱۰ صفحه ۳۶ ۲۸- المنار جلد ۴ صفحه ۵۳۵ ۲۹ فتح الباری جلد ۶ صفحه ۳۱۶ مسند احمد بن حنبل جلد ۲ صفحه ۲۹۰ مجموعہ قاری احمد یہ جلد ا صفحه ۱۸۷ مرتبه مولوی فضل محمد خاں صاحب چنگوی الحکم ۳/ مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۳ کالم ۲ ۳۱۔۳۲۔حضرت اقدس مسیح موعود نے ۳۱۳ اصحاب کبار میں آپ کا نام ۵۲ پر درج فرمایا ہے (ضمیمہ انجام آعظم) ۲۷/ جولائی ۱۹۳۱ء کو اے سال کی عمر میں وفات پائی۔۳۳ اصحاب احمد " جلد چهارم صفحه ۱۳۱- ۱۳۲ ۳۴- الحکم ۲۴/ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲۱ میں ۳ دسمبر کی تاریخ تو صحیح درج ہوئی ہے مگر ۱۹۰۰ء کی بجائے سمو ۱۹۰۱ء لکھا گیا ہے (مولف) ۳۵ حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کی روایت ہے کہ عصر کے بعد جب حضور معمولا مسجد میں چھت پر تشریف فرما تھے تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ایسے اعتراض کیوں دل میں اٹھتے ہیں۔الخ " اصحاب احمد " جلد چہارم صفحه ۱۳۱- ۱۳۲- الحکم ۲۴ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۔۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے مغرب کے بعد اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے ایک لمبی تقریر ارشاد فرمائی تھی جیسا کہ اوپر درج ہے۔- الحکم ۲۴/ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۲ کالم ۲ - احکام ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲ کالم ۲-۳ ۳۸ اصحاب احمد " جلد چهارم صفحه ۱۳۲ م ۳۹- الحکم ۳۰/ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۲ کالم ۲۔۳ و الحکم ۱۰ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ اکالم ۱-۲ سوال وجواب کے اس واقعہ سے محترم جناب مولف کتاب "مجدد اعظم" نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ " ایسے واقعات سے صاف پتہ لگتا ہے کہ خود حضرت اقدس مرزا صاحب کے اقوال اور افعال کو ان کے مریدین مخلصیہ کس قدر نکتہ چینی کی نظر سے دیکھتے تھے اور اگر ان کا کوئی قول یا فعل کسی مرید کی سمجھ میں نہ آتایا اپنی سمجھ کے مطابق اس میں قرآن و سنت سے ذرا بھی انحراف دیکھتا توہ اعتراض کرنے سے کبھی بھی نہ چوکتا اور جب تک تشفی نہ ہو جاتی رہ اپنے اس اعتراض سے باز نہ آتا۔" ("مجدد اعظم جلد ۲ صفحه ۷۶۴) سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی واضح تصریح کے باوجود اس کے سوالات و اعتراضات کی یہ صورت بے ادبی اور گستاخی