تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 5 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 5

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام اولین طلبہ جماعت کی قلت تعداد کے باعث بورڈنگ ہاؤس اور اس کے سپرنٹنڈنٹ بہت تھوڑے تھے۔یہ طلباء مہمان خانے کے ایک کمرے میں رہتے تھے۔ان کے نگران حضرت شیخ عبدالرحیم صاحب نو مسلم (سابق جنگت سنگھ ) مقرر ہوئے۔بورڈنگ ہاؤس کی مستقل صورت مئی ۱۹۰۰ ء سے کی گئی۔ابتداء ۳۲ بور ڈر تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں متعدد سپر نٹنڈنٹ بنے جن میں سے شیخ عبد الحق صاحب حضرت مولوی عبید اللہ صاحب بہل اور حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بالخصوص قابل ذکر ہیں۔طلباء کی تعداد ۱۸۹۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں طلباء کی تعداد حسب ذیل تھی +19+0 ۴۱ ۸۵ ۱۳۲ ۱۳۸ ۲۰۸ ۱۹۰۵ء ۱۹۰۶ء ۱۸۹۹ء $1900 ۲۲۰ *19*2 ۱۴۶ 51901 19۔*19*A ۱۵۰ +19+ ۱۵۲ ۱۹۰۳ء پرائمری سکول سے کالج تک مدرسہ تعلیم الاسلام نے جو اپنی ابتدائی شکل میں پرائمری کی صورت میں شروع ہوا۔خدا کے فضل سے چند سالوں کے اندر اندر اس نے بڑی ترقی کی۔چنانچہ ۱۸۹۸ء میں وہ مڈل سکول بنا۔فروری ۱۹۰۰ ء میں ہائی سکول ہوا اور مئی ۱۹۰۳ ء میں کالج تک پہنچ گیا جس کی تفصیل ۱۹۰۳ء کے واقعات میں آرہی ہے)۔جماعت احمدیہ کی اس پہلی مرکزی درسگاہ کی خدمات کا سلسلہ نصف صدی سے زائد عرصہ خدمات تک ممتد ہے۔بالخصوص جماعت کے انگریزی خوان طبقہ میں دیوی علوم کے ساتھ ساتھ اسلامی ذوق اور دینی شعف پیدا کرنے میں ” مدرسہ تعلیم الاسلام" نے ایک نمایاں حصہ لیا ہے۔جماعت کے بہت سے مبلغ اور دوسرے مقامی کارکن اس مدرسہ کے فارغ التحصیل ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ادارہ کے قدیم طلباء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفته المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب جیسی برگزیدہ ہستیاں بھی شامل ہیں۔