تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 172 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 172

ت - جلد ۲ 149 رسالہ "دیوید آف ریلی کی تجویز مسیح پاک کی صداقت پر ہمیشہ کے لئے ایک نشان چھوڑ گئی۔پیر مہر علی شاہ صاحب کی طرف سے " سیف چشتیائی" کی اشاعت پیر مہر علی شاہ صاحب جو انجاز المسیح کے اولین مخاطب تھے مہینوں خاموش رہے مگر محمد حسن صاحب کی وفات کے بعد جب کہ اعجاز المسیح " کو شائع ہوئے ایک عرصہ ہو چکا تھا انہوں نے "اعجاز المسیح" کے جواب میں "سیف چشتیائی" کے نام سے اردو میں ایک کتاب شائع کی جو حضور علیہ السلام کو یکم جولائی ۱۹۰۲ء کو بذریعہ ڈاک پہنچی۔حضور اس وقت " نزول المسیح " تصنیف فرمارہے تھے کتاب پہنچنے سے قبل ہی حضور کو خبر پہنچ چکی تھی کہ پیر صاحب "اعجاز المسیح" کے مقابل پر ایک کتاب لکھ رہے ہیں مگر حضور کو یہ امید نہ تھی کہ وہ عربی تفسیر کا جواب اردو میں لکھیں گے لیکن آپ کا یہ خیال صحیح نہ نکلا حضور نے جب ان کی کتاب "سیف چشتیائی" دیکھی تو وہ اردو زبان میں تھی اور تفسیر کا نام و نشان اس میں نہ تھا۔البتہ اعجاز المسیح" کے چند فقروں پر چند صفحات میں نکتہ چینی ضرور کی گئی تھی اور آپ پر سرقہ کا الزام لگایا گیا تھا۔"اعجاز مسیح پر ایک عرصہ گزرنے کے بعد بھی پیر مہر علی شاہ صاحب کا عربی تفسیر کے مقابلہ سے کھلم کھلا گریز کرنا ان کا اعتراف شکست تھا جس نے اس امر پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ "اعجاز الصحیح" خدا کی طرف سے ایک نشان ہے۔اس پہلو ہے " سیف چشتیائی" کے مضمون کے جواب کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی مگر حضور نے " نزول المسیح" میں بڑی شرح وبسط سے لکھا کہ عرب کے مسلمہ شعراء اور ادباء میں ایک دوسروں کی عبارتیں یا اشعار ہو ہو یا کچھ تغیر کے ساتھ ان کے دیوان میں موجود ہیں تو کیا یہ سرقہ ہے یا پھر اسے توارد قرار دیا جائے گا کیوں کہ جنہوں نے ہزار ہا نمونے اپنی انشا پردازی کے دنیا کے سامنے پیش کر کے اپنی لیاقت علمی کا سکہ بٹھا دیا ان میں چند فقرات کے اندراج سے ان کا منصب داغدار کرنا انتہائی ظلم ہے۔اسی طرح خود میں نے بیسیوں کتابیں فصیح بلیغ عربی میں لکھی ہیں کیا یہ تمام علمی لٹریچر "حریری " یا " ہمدانی" کے سرقہ سے تیار ہوا ہے۔پھر ہزار ہا حقائق و معارف جو ان کتابوں میں لکھے گئے ہیں وہ "حریری " اور "ہمدانی " میں کہاں ہیں ؟ پس صرف چند فقرے ہزار فقروں میں سے پیش کر کے یہ دعوی کرنا کہ یہ سرقہ ہے انصاف و دیانت کا خون کرنا ہے۔ابھی حضور علیہ السلام کا ارادہ اسی الزام کے بارے میں مزید لکھنے کا تھا کہ ۲۶/ ایک اہم اطلاع جولائی ۱۹۰۲ء کو مولوی محمد حسن فیضی کے ایک دوست میاں شہاب الدین ساکن بھین کے خط کے ذریعہ سے آپ کو یہ خبر ملی کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کی " سیف چشتیائی " دراصل مولوی محمد حسن صاحب فیضی کے مسودہ کی من و عن نقل اور مسروقہ مضمون ہے جسے " زبدۃ المحققین و