تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 157
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ها جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہونا جماعت کو ذمہ داری کے احساس کے لئے نصیحت "احمدی مذہب کے مسلمان " یا "مسلمان فرقہ احمدیہ " نام کے ساتھ جماعت پر جو اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں ان کی طرف توجہ دلانے کے لئے حضرت اقدس نے اگلے ماہ دسمبر ۱۹۰۰ء میں لکھا۔"خدا نے تمہیں اس عیسی احمد صفت کے لئے بطور اعضاء کے بنایا۔سو اب وقت ہے کہ اپنی اخلاقی قوتوں کا حسن اور جمال دکھلاؤ۔چاہیئے کہ تم میں خدا کی مخلوق کے لئے عام ہمدردی ہو اور کوئی چھل اور دھو کہ تمہاری طبیعت میں نہ ہو۔تم اسم احمد کے مظہر ہو۔سو چاہئے کہ دن رات خدا کی حمد و ثناء تمہارا کام ہو اور خادمانہ حالت جو حامد ہونے کے لئے لازم ہے اپنے اندر پیدا کرو اور تم کامل طور پر خدا کی کیوں کر حمد کر سکتے ہو جب تک تم اس کو رب العالمین یعنی تمام دنیا کا پالنے والا نہ سمجھو۔اور تم کیوں کر اس اقرار میں بچے ٹھر سکتے ہو جب تک ایسا ہی اپنے تئیں بھی نہ بناؤ۔" پس تم کیوں کر بچے احمد یا حامد ٹھر سکتے ہو جب تک کہ اس خلق کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔حقیقت میں احمد بن جاؤ اور یقینا سمجھو کہ خدا کی اصل اخلاقی صفات چارہی ہیں جو سورہ فاتحہ میں مذکور ہیں۔(۱) رب العالمین سب کا پالنے والا (۲) رحمان بغیر عوض کسی خدمت کے خود بخود رحمت کرنے والا (۳) رحیم کسی خدمت پر حق سے زیادہ انعام و اکرام کرنے والا اور خدمت قبول کرنے والا اور ضائع نہ کرنے والا (۴) اپنے بندوں کی عدالت کرنے والا۔سو احمد وہ ہے جو ان چاروں صفتوں کو عملی طور پر اپنے اندر جمع کرے۔یہی وجہ ہے کہ احمد کا نام مظہر جمال ہے۔۔۔اور یہی جمالی حالت ہے جو حقیقت احمد یہ کو لازم پڑی ہوئی ہے۔محبوبیت جو اسم محمد میں تھی صحابہ کے ذریعہ سے ظہور میں آئی اور جو لوگ ہتک کرنے والے اور گردن کش تھے محبوب الہی ہونے کے جلال نے ان کی سرکوبی کی۔لیکن اسم احمد میں شان محیت تھی یعنی عاشقانہ تذلل اور فروتنی یہ شان مسیح موعود کے ذریعہ سے ظہور میں آئی سو تم شان احمدیت کے ظاہر کرنے والے ہو لنڈا اپنے ہر ایک بے جاجوش پر موت وارد کرو اور عاشقانہ فروتنی دکھلاؤ۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔" دوسروں کے پیچھے نماز پڑھنے کی ممانعت ۲۳۔مارچ ۱۸۸۹ء کو جماعت کی بنیاد رکھی گئی اور ۱۸۹۲ء میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے علمائے ہند سے فتویٰ تکفیر لے کر شائع کیا جس میں حضور اور حضور کی جماعت کو کا فرادر مرتد قرار دیتے ہوئے قہار کی دیئے گئے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا ان سے تعلق نکاح قائم کرنا اور ان کا جنازہ پڑھنا حرام