تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 156 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 156

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۵۳ جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہوتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کا فرقہ احمدیہ سے موسوم ہونا سلسلہ حقہ کی بنیاد اگر چہ مارچ ۱۸۸۹ء میں پڑ چکی تھی مگر اب تک اس کا کوئی مستقل نام تجویز نہیں کیا گیا تھا اور مسلمانوں کے دوسرے فرقوں سے امتیاز کے لئے بعض لوگ آپ کے ماننے والوں کو پنجاب میں ” مرزائی اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں ” قادیانی" کے نام سے پکارتے تھے لیکن اب ۱۹۰۱ء میں سرکاری طور پر مردم شماری ہونے والی تھی جس میں یہ التزام کیا جانے والا تھا کہ ہر ایک فرقہ جو دوسرے فرقوں سے امتیاز رکھتا ہے علیحدہ خانہ میں اس کا اندارج کیا جائے اور جس نام کو کسی فرقہ نے اپنے لئے تجویز کیا ہے وہی نام سرکاری کاغذات میں لکھا جائے۔لہذا اس اہم مقصد کے پیش نظر حضرت اقدس نے ۴ نومبر ۱۹۰۰ء کو اشتہار واجب الاظہار" کے ذریعہ سے یہ اعلان فرمایا کہ ہمارے نبی ا کے دو نام تھے ایک محمد۔دوسرا احمد۔اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اس میں یہ پیش گوئی مخفی تھی کہ آنحضرت ا ان دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں کے بموں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صدہا مسلمانوں کو قتل کیا لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت الی دنیا میں آشتی اور صلح پھیلا ئیں گے۔سو خدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اول آنحضرت ا کی مکی زندگی میں اسم احمد کا ظہور تھا اور ہر طرح سے مبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سر کو بی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں پھر اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہو گا جس کے ذریعہ سے احمد کی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا پس اسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام فرقہ احمد یہ رکھا جائے تا اس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔"