تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 1 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 1

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ بسم الله الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم والسلام على عبده السيح الموعود مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام و ماموریت کا سترھواں سال "مدرسہ تعلیم الاسلام" کا (۱۸۹۸ء) کا قیام 10/ قادیان میں اب تک بچوں کی تعلیم کے لئے دو سکول تھے ، ایک سرکاری سکول جو لوئر پرائمری تک تھا اور ریتی چھلہ سے قریب واقع تھا، دوسرا آریہ سکول جس میں اس سے اوپر کی کچھ جماعتیں تھیں۔اول الذکر پرائمری سکول کو سرکاری تھا مگر اس کا ہیڈ ماسٹر جو اتفاقی طور پر آریہ تھا مسلمان بچوں کو گمراہ کرنے کے لئے اسلام پر پر ملا حملے کیا کرتا تھا اور بچے اس سے بہت متاثر ہوتے تھے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب (خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا بیان ہے کہ اس پرائمری سکول میں میں بھی کچھ عرصہ پڑھا ہوں۔۔۔۔ایک دن جب میرا کھانا آیا جس میں کلیجی کا سالن تھا تو اسے دیکھ کر ایک طالب علم نے حیرانی سے اپنی انگلی دانتوں میں دبائی اور کہا یہ تو ماس ہے جس کا کھانا حرام ہے۔جب سرکاری سکول کی یہ حالت ہو تو آریہ سکول میں اسلام کے خلاف طلبہ کے دماغوں میں کیا کچھ بھرا جاتا ہو گا ؟ اس کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔جب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اس صورت حال کا علم ہوا تو حضور علیہ السلام نے فرمایا۔اب ہمارے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ ہم ایک اسلامی سکول کھولیں سو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے ۱۵ / ستمبر۷ ۱۸۹ء کو جماعت کے نو نہالوں کو عیسائیت ، الحاد اور مغربی تہذیب سے بچانے اور انہیں اسلام کا مخلص خادم بنانے کی غرض سے قادیان میں ایک مثالی اسلامی درس گاہ کے قیام کی بذریعہ اشتہار تحریک فرمائی۔چنانچہ حضور نے لکھا ” اگر چہ ہم دن رات اسی کام میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگ اس بچے معبود پر ایمان لاویں جس پر ایمان لانے سے نور ملتا ہے اور نجات حاصل ہوتی ہے لیکن اس مقصد تک پہنچانے کے لئے علاوہ ان طریقوں کے جو استعمال کئے جاتے ہیں ایک اور طریق بھی ہے