تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 73
تاریخ احمدیت۔جلدا ۷۲ - مقدمات کی پیروی سکتا۔دعا کرو کہ اس مقدمہ میں حق حق ہو جائے اور مجھے مخلصی ملے۔میں نہیں کہتا کہ میرے حق میں ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حق کیا ہے پس جو اس کے علم میں حق ہے اس کی تائید اور فتح ہو"۔اس کے بعد حضور خود بھی دیر تک مصروف دعا ر ہتے اور حاضرین بھی A ایک ہند و مدرس پنڈت دیوی رام کا ( جو ۲۱۔جنوری ۱۸۷۵ء کو قادیان آئے اور چار سال تک مقیم رہے) بیان ہے کہ "جب کسی تاریخ مقدمہ پر جانا ہو تا تو آپ کے والد صاحب آپ کو مختار نامہ دے دیا کرتے تھے اور مرزا صاحب بہ تعمیل تابعداری نور ابخوشی چلے جاتے تھے۔مرزا صاحب اپنے والد صاحب کے کامل فرمانبردار تھے۔مقدمہ پر لاچاری امر میں جاتے تھے۔ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ لاہور چیف کورٹ میں ایک مقدمہ دائر تھا اور آپ لاہور میں اس کی پیروی کی غرض سے سید محمد علی شاہ صاحب محکمہ جنگلات کے ہاں فروکش تھے۔شاہ صاحب کا ملازم آپ کے لئے چیف کورٹ میں ہی کھانا لے جایا کرتا تھا۔ایک دن نوکر کھانے لئے واپس آیا اور انہیں اطلاع دی آپ نے فرمایا۔کہ گھر پر ہی آکر کھاتا ہوں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ خوش اور بشاش گھر پہنچے تو شاہ صاحب نے پوچھا کہ آج آپ اتنے خوش کیوں ہیں کیا فیصلہ ہوا ؟ فرمایا مقدمہ تو خارج ہو گیا ہے مگر خد اتعالیٰ کا شکر ہے کہ آئندہ اس کا سلسلہ ختم ہو گیا۔شاہ صاحب کو تو اس خبر سے سخت تکلیف ہوئی مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر نہ صرف حزن و ملال کے چنداں کوئی آثار نہیں تھے بلکہ آپ بہت خوش تھے اور بار بار فرماتے تھے کہ مقدمہ کے ہارنے کا کیا غم ہے !! آپ کے دور مقدمات کی تین خصوصیات بالکل نمایاں تھیں۔اول راست گفتاری دوم منکسر المزاجی تواضع اور حسن خلق سوم تعلق باللہ۔مقدمات میں راست گفتاری آپ نے جن مقدمات کی پیروی کی وہ زیادہ تر پیچیدہ نہیں ہوتے تھے اور دروغ گوئی سے ان کو کوئی تعلق نہیں ہو تا تھا کیونکہ پٹواری کی شہادت کافی ہوتی تھی اور سرکاری کاغذات پر فیصلہ ہو جاتا تھا تاہم ان مقدمات میں متعدد مرحلے ایسے آجاتے تھے جن میں کوئی دوسرا شخص ہو تا تو اس کے قدم ڈگمگا جاتے۔مگر آپ نے کمال جرات اور بہادری سے ہر موقعہ پر دنیوی مصلحتوں کو پایہ استحقار سے ٹھکرا دیا۔اکثر دفعہ اپنے والد کی خفگی کا نشانہ بھی بنے اور شماتت اعداء کے چر کے بھی برداشت کئے۔مگر گوارا نہیں کیا تو راست گفتاری کو چھوڑنا گوارا نہیں کیا۔ایک دفعہ جبکہ حضرت اقدس کی عمر پچیس تیس برس کی تھی آپ کے والد بزرگوار کا اپنے موروثیوں سے درخت کاٹنے پر ایک تنازعہ ہو گیا۔آپ کے والد بزرگوار کا نظریہ یہ تھا کہ زمین کے مالک ہونے کی حیثیت سے درخت بھی ہماری ملکیت ہیں اس لئے انہوں نے موروثیوں پر دعوئی دائر کر