تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 72
تاریخ احمدیت جلد مقدمات کی پیروی تھا اور وہ مجھے دلی یقین سے بر بالوالدین جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ میں صرف ترحم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے یعنی دین کی طرف۔صحیح اور سچ بات یہی ہے۔ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں "۔لیکن چونکہ ان کی ساری عمر دنیا داری کے معاملات میں بسر ہوئی تھی اس لئے افسوس کا پہلوہی غالب رہتا اور آپ کے مستقبل کے متعلق ہمیشہ تشویش میں رہتے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اکثر فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے والد صاحب مرحوم اکثر اوقات افسوس کا اظہار کرتے تھے کہ "میرا ایک بچہ تو لائق ہے مگر دو سرالڑ کا نالائق ہے۔کوئی کام نہ اسے آتا ہے اور نہ وہ کرتا ہے۔مجھے فکر ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ کھائے گا کہاں سے "۔اور بعض دفعہ افسردہ ہو کر کہتے تھے کہ "یہ اپنے بھائی کا دست نگر رہے گا"۔یہ مقدمات جو قادیان کی جائیداد کے حقوق، مقامی مقدمات کے لئے تیاری اور سفر زمینداروں کے لگان میں اضافہ یا درختوں کی کٹائی وغیرہ کے متعلق ہوتے تھے۔آپ ان کے لئے بڑی محنت اور عرق ریزی سے ہر ممکن تیاری کرتے۔ہر مقدمہ کے متعلق ضروری کاغذات اور شواہد کا خلاصہ ضبط تحریر میں لاتے اور مشمولہ کاغذات کی نقول محفوظ رکھنے کا خاص اہتمام فرماتے تا عند الضرورت مقدمہ کے سمجھنے یا سمجھانے میں آسانی ہو۔حضرت مسیح موعود کو اس سلسلے میں بٹالہ گورداسپور ڈلہوزی امرت سر اور لاہور تک کے متعدد سفر اختیار کرنا پڑے۔بالخصوص ڈلہوزی تک تو آپ کو ایک مرتبہ یکہ میں اور اکثر مرتبہ پا پیادہ سفر بھی کرنا پڑا۔ان دنوں میدانی سفر کی سہولتیں بھی میسر نہ تھیں اور یہ تو پہاڑوں کا دشوار گزار راستہ تھا جس کے طے کرنے میں یقیناً غیر معمولی بہادری ، ہمت اور جفاکشی درکار تھی اور جسے آپ نے مسکراتے ہوئے چہرے سے محض رضاء الہی کی خاطر اختیار کیا۔مقدمات میں ہر قسم کا مکر و فریب ، دغا بازی مقدمات میں آپ کی امتیازی خصوصیات اور چالبازی روا رکھی جاتی ہے اور فریق مخالف کو شکست دینے کے لئے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا جاتا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے مقدمات کی پیروی کا انداز ہی بالکل جدا بالکل نرالا اور بالکل انوکھا تھا۔آپ کو ہار جیت سے تو کوئی تعلق ہی نہیں تھا صرف اطاعت والد کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی رضاء مقصود تھی۔ان دنوں آپ کا یہ اکثر معمول تھا کہ جس صبح کو مقدمہ پر جانا ہو تا آپ اس سے قبل عشاء کی نماز مسجد اقصیٰ میں ادا کرنے کے بعد فرماتے " مجھ کو مقدمہ کی تاریخ پر جانا ہے میں والد صاحب کے حکم کی نافرمانی نہیں کر