تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 67 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 67

تاریخ احمدیت۔جلدا ۶۶ شادی انقطاع الی اللہ ہوئے کہ چراغ سحری کی طرح جھلملانے لگے۔خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے آپ کو دوبارہ زندگی بخشی۔یہ مرض تو دور ہو گئی مگر دوسرے عارضے بدستور قائم رہے اور پھر بشیر اول کی وفات سے تشیخ کی بیماری کا حملہ شروع ہو گیا اور کثرت سے دورے ہونے لگے۔غشی طاری ہو جاتی ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے بدن کے بیٹھے کھچ جاتے خصوصاً گردن کے اور سر میں چکر ہو تا تھا۔اس حالت میں آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے۔شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے۔پھر اس کے بعد کچھ دوروں کی ایسی سختی نہ رہی اور کچھ طبیعت بھی عادی ہو گئی۔بہر حال آپ پوری عمر مختلف عوارض میں مبتلا رہے۔مگر خد اتعالیٰ کی قدرتوں کا یہ نشان ہے کہ نہ دنیوی تفکرات آپ کو اپنی راہ سے ہٹا سکے نہ بیماریاں آپ کو اپنے فرض منصبی سے جدا کر سکیں۔آپ کی پوری زندگی معمور الاوقات تھی۔اور اوائل زمانہ کے حالات سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا آپ کی باطنی آنکھ کو نظام عالم میں روحانی انقلاب برپا کرنے کا ایک نقشہ دکھایا گیا ہے اور آپ اس نقشہ کے مطابق فرشتوں کی رہنمائی میں معرکہ کفر د اسلام کے سر کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں اور حوادث و مصائب کے طوفانوں سے گذر کر دنیا بھر میں اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔اس عہد تابل میں آپ نے خلوت کو جلوت پر ترجیح دی۔خدمت خلق اور غرباء پروری اور باوجودیکہ آپ ایک نہایت عالی خاندان کے درخشندہ گوہر تھے اپنی اس گوشہ نشینی کی وجہ سے کوئی شخص آپ کو نہیں جانتا تھا اس تنہائی اور تخلیہ کی زندگی میں آپ کے رفیق بعض چھوٹے بچے تھے۔جن میں اکثریتائی ہوتے۔آپ کے کھانے میں وہ برابر کے شریک ہوتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی کھانے کے وقت موجود نہ ہو تا تھا تو حضور پہلے اس کا حصہ نکال کر رکھ لیتے تھے۔اس زمانہ میں آپ بعض کو سبق بھی پڑھا دیا کرتے تھے۔مگر عام طور پر آپ کا کام یہ ہو تا تھا کہ خود بھی نمازوں کی پابندی کرتے کثرت سے درود شریف کا ورد کرتے اور ان کو بھی نماز اور درود شریف پڑھنے کی تاکید کیا کرتے تھے جن کو اس قابل پاتے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں ان کو طریق استخارہ بھی سمجھا دیتے اور ہدایت فرماتے کہ اگر وہ کچھ دیکھیں تو صبح کو بیان کریں۔آپ ان کے خواب سنتے اور تعبیریں بتاتے۔یہ سلسلہ ایک عرصہ تک جاری رہا۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ عمر بھر جاری رہا۔گو اس کی صورت تبدیل ہو گئی۔حضور ان ایام میں بالا خانے پر رہتے تھے۔کھانا نہایت قلیل مقدار میں تناول کرتے اور اکثر بھنے ہوئے دانوں پر ہی اکتفا فرماتے۔خادمہ جب کھانا لاتی تو آپ اوپر سے ہی ایک برتن لٹکا دیتے خادمہ اس میں کھانا رکھ دیتی تو آپ او پر کھینچ لیتے جس میں سے کچھ تو خود تناول فرماتے اور باقی اپنے ہمجولیوں اور