تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 66 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 66

تاریخ احمدیت جلدا ۶۵ شادی انقطاع الی اللہ اس کو پڑھتے اور اس پر نشان کرتے رہتے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ شاید دس ہزار مرتبہ اس کو پڑھا ہو۔یہ مطالعہ سطحی نہیں ہو تا تھا بلکہ آپ قرآن مجید کے لفظ لفظ کی باریکیوں تک پہنچنے کے لئے یہاں تک گہرا غور و فکر فرماتے کہ دنیا جہان سے بیگانہ ہو کر قرآن مجید کی وسعتوں میں گم ہو جاتے اور آپ کے والد بزرگوار کو بار بار کہنا پڑتا کہ مطالعہ میں اس درجہ انہماک صحت پر برا اثر ڈالے گا کیونکہ آپ بحیثیت طبیب دیکھ رہے تھے کہ آپ کی غذا نہایت قلیل ہے مگر دوسری طرف مطالعہ کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ زمانے میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔چنانچہ مرزا اسماعیل بیگ کی روایت ہے کہ کبھی حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مجھے بلاتے اور دریافت کرتے کہ ”سنا تیرا مرزا کیا کرتا ہے میں کہتا تھا کہ قرآن دیکھتے ہیں۔اس پر وہ کہتے کہ کبھی سانس بھی لیتا ہے۔پھر یہ پوچھتے کہ رات کو سوتا بھی ہے؟ میں جواب دیتا کہ ہاں سوتے بھی ہیں۔اور اٹھ کر نماز بھی پڑھتے ہیں۔اس پر مرزا صاحب کہتے کہ اس نے سارے تعلقات چھوڑ دیئے ہیں میں اوروں سے کام لیتا ہوں۔دوسرا بھائی کیسالا ئق ہے مگردہ معذور ہے "۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا مطالعہ میں یہ انہماک اور دلی شغف حضور کے والد صاحب کی وفات تک بدستور قائم رہا۔چنانچہ ۱۸۷۷۶۱۸۷۵ء کے زمانہ کے متعلق پنڈت دیوی رام کی شہادت ہے کہ آپ ہندو مذہب اور عیسائی مذہب کی کتب اور اخبارات کا مطالعہ فرماتے رہتے تھے۔اور آپ کے ارد گرد کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا تھا۔انہیں دنیا کی اشیاء میں سے مذہب کے ساتھ محبت تھی۔مرزا صاحب مسجد یا حجرہ میں رہتے تھے۔آپ کے والد صاحب آپ کو کہتے تھے کہ غلام احمد تم کو پتہ نہیں کہ سورج کب چڑھتا ہے اور کب غروب ہوتا ہے اور بیٹھتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں۔جب میں دیکھتا ہوں چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا رہتا ہے۔حضور خود بیان فرماتے ہیں کہ ان دنوں میں مجھے کتابوں کے دیکھنے کی طرف اس قدر توجہ تھی کہ گویا میں دنیا میں نہ تھا۔میرے والد صاحب مجھے بار بار یہی ہدایت کرتے تھے کہ کتابوں کا مطالعہ کم کرنا چاہئے کیونکہ وہ نہایت ہمدردی سے ڈرتے تھے کہ صحت میں فرق نہ آدے "۔A حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کا قیاس درست نکلا یعنی شب بیداری شبانه صحت کی خرابی روز دماغی محنت اور اسلام کے درد کے غیر معمولی اثر نے آپ کی صحت پر اسی زمانہ سے نہایت ناخوشگوار اثر ڈالا اور یہ اثر دینی مصروفیات کے ساتھ ساتھ روز بروز بڑھتا گیا۔حتی کہ ۱۸۶۵ ء سے یعنی عنفوان شباب ہی میں آپ کے بال سفید ہونے شروع ہو گئے۔رفتہ رفتہ دوران سر اور ذیا بیطس کے عوارض لاحق ہو گئے۔اپنے والد بزرگوار مرحوم کے زمانہ میں حضور کو ایک مرتبہ سل بھی ہو گئی اور چھ ماہ تک بیمار رہے۔۱۸۸۰ء میں تو لنج زحیری کے مرض میں اس شدت سے بتلا