تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 65 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 65

تاریخ احمدیت جلدا ۶۴ شادی ، انقطاع الی اللہ پریشانی میں ہی مبہوت لیٹا رہا۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ حالت جاتی رہی۔صبح میں نے اس واقعہ کا حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا کہ رات کو میری آنکھوں نے اس قسم کا نظارہ دیکھا ہے کیا حضور کو کوئی تکلیف تھی یا درد گردہ وغیرہ کا دورہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ”میاں فتح دین کیا تم اس وقت جاگتے تھے؟ اصل بات یہ ہے کہ جس وقت ہمیں اسلام کی مہم یاد آتی ہے اور جو جو مصیبتیں اس وقت اسلام پر آرہی ہیں ان کا خیال آتا ہے تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے اور یہ اسلام ہی کا درد ہے جو ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے"۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی قلبی کیفیت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔دین و تقویٰ تم ہوا جاتا ہے یا رب رحم کر بے بسی سے ہم پڑے ہیں کیا کریں کیا اختیار میرے آنسو اس غم دلوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویران ہے دنیا کے ہیں عالی منار اے رے پیارے مجھے اس سیل غم سے کر رہا ور نہ ہو جائے گی جاں اس درد سے تجھ پر نثار قرآن مجید کا کثرت سے مطالعہ شادی کے بعد سے آنحضرت پر اعتراضات کے غور و فکر کرنے کی مہم شروع ہوتی ہے اس مہم کو سر کرنے اور معاندین اسلام کے دعوؤں کا ابطال کرنے نیز خدا تعالٰی سے براہ راست تعلق قائم کر کے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے آپ علاوہ دعاؤں کے قرآن مجید کا کثرت سے مطالعہ فرماتے تھے بلکہ سب سے زیادہ انہماک آپ کو ان دنوں قرآن مجید کے مطالعہ ہی میں تھا۔حتی کہ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں ہم نے آپ کو جب بھی دیکھا قرآن ہی پڑھتے دیکھا چنانچہ پٹیالہ کے ایک غیر احمدی تحصیلدار منشی عبد الواحد صاحب (جو کثرت سے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس قادیان میں آتے تھے اور جنہیں بچپن میں حضور کو بارہا دیکھنے کا موقعہ ملتا تھا) کی شہادت ہے کہ حضور چودہ پندرہ سال کی عمر میں سارا دن قرآن شریف پڑھتے تھے اور حاشیہ پر نوٹ لکھتے رہتے تھے اور مرزا غلام مرتضی صاحب فرماتے کہ یہ کسی سے غرض نہیں رکھتا سارا دن مسجد میں رہتا ہے اور قرآن ریف پڑھتا رہتا ہے "۔ابتدائی زمانہ کے متعلق حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ حضور قرآن مجید کے علاوہ بخاری ، مثنوی رومی اور دلائل الخیرات ، تذکرۃ الاولیاء، فتوح الغیب اور سفر السعادت پڑھتے اور کچھ نوٹ بھی لیا کرتے تھے۔مگر بہر حال اکثر توجہ قرآن مجید کے مطالعہ کی طرف تھی۔حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی یہ بھی روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک قرآن مجید تھا