تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 640
تاریخ احمدیت۔جلد ! ۶۳۹ مقدمه اقدام قتل اور بریت سے گونج اٹھا۔میں جب کبھی اس طرف جاتا ہوں اور اس طاقچی کو دیکھتا ہوں تو وہ نظارہ آنکھوں کے سامنے آنے سے جو دل پر گزرتی ہے اس کو خدا ہی جانتا ہے "۔اس زمانے میں چونکہ مخالفت عروج پر تھی اور نت نئے شوشے چھوڑ کر عوامی ذہن میں گویا باردو بھر دی گئی تھی اس لئے حضرت اقدس جہاں جہاں سے گزرتے آپ کو گالیاں دی جاتی تھیں اور لوگ آپ کا نام لے لے کرنا شائستہ حرکات کرتے اور آوازے کتے تھے۔الد حضرت اقدس لاہور میں چند دن فروکش رہنے کے بعد قادیان تشریف لے آئے۔اس سفر میں حکیم الامت حضرت مولانا نور الدین صاحب، حضرت مولانا عبدالکریم صاحب، جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب مولوی محمد علی صاحب بھی حضرت اقدس کے ہمرکاب تھے۔