تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 621
تاریخ احمدیت جلد ! ۶۲۰ مقدمه اقدام قتل اور بریت پادری ہنری مارٹن کلارک کا مقدمہ اقدام قتل اور الہام کے مطابق حضور کی برسیت کتاب البریہ کی تصنیف و اشاعت اب ہم اگست ۱۸۹۷ء کے ہنگامہ خیز مہینہ میں قدم رکھ رہے ہیں جو تاریخ احمدیت میں ہمیشہ یاد گار رہے گا۔اس مہینہ میں مخالفت کا وہ ماحول جو لیکھرام کے قتل سے پیدا ہوا تھا اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا اور عیسائی پادریوں کی ایک گہری اور نہایت خطرناک سازش سے مختلف مذہبی طاقتیں حضرت اقدس کو مقدمه اقدام قتل میں ماخوذ کرنے کے لئے جمع ہو گئیں۔جنگ مقدس" میں اسلام کے مقابل عیسائیت کو جو شکست فاش نصیب ہوئی تھی اس نے پادریوں کو غضب ناک کر دیا تھا اور وہ آتش غیظ و غضب کا شعلہ جوالہ آپکے خلاف انتقامی کارروائی کرنے کا فیصلہ کر کے کسی موقعہ کی تاک میں تھے کہ ایک آوارہ مزاج نوجوان عبد الحمید جو جہلم کے ایک غیر احمدی عالم مولوی سلطان محمود کا بیٹا اور مولوی برہان الدین صاحب کا بھتیجا تھا عیسائی بننے کے لئے ان کے پاس پہنچ گیا۔یہ ایک متفنی انسان اور تبدیلی مذہب کا خوگر شخص تھا۔کبھی عیسائی ہو تا کبھی ہندو اور کبھی مسلمان۔اسی چکر میں وہ قبل ازیں قادیان بھی گیا۔حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحب نے حضرت مولانا برہان الدین صاحب کا برادر زادہ ہونے کے باعث اس سے شفقت آمیز سلوک کیا۔عبد الحمید نے یہاں بھی پرانا کھیل کھلینا چاہا اور ان کے توسط سے حضرت اقدس سے بیعت کی درخواست کی۔جسے حضور نے رد کر دیا۔اس پر وہ ناراض ہو کر قادیان سے چلا گیا۔مگر کچھ عرصے کے بعد دوباره قادیان پہنچا اس دفعہ خود حضرت مولانا برہان الدین صاحب بھی قادیان میں موجود تھے انہوں نے حضرت حکیم الامت کو اس کی ناشائستہ حرکتوں سے آگاہ کر کے اسے قادیان سے نکلوا دیا۔اب عبد الحمید نے دوبارہ عیسائیوں کی طرف رخ کیا اور امرت سر پہنچ کر پادری نور دین ساکن بٹالہ کے سامنے بپتسمہ