تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 601
تاریخ احمدیت۔جلدا 4۔پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام تلاشی کا نام سن کر آپ کو اس قدر خوشی ہوئی جتنی اس ملزم کو ہو سکتی ہے جس سے کہا جائے کہ تیرے گھر کی تلاشی نہیں ہو گی۔چنانچہ حضور نے فرمایا کہ آپ اطمنان سے تلاشی لیں اور میں مدد دینے میں آپ کے ساتھ ہوں۔اس کے بعد آپ انہیں دوسرے افسروں سمیت مکان میں لے گئے اور پہلے مردانہ اور پھر زنانے مکان میں تمام بستے وغیرہ انہوں نے دیکھے۔اس وقت مرزا امام دین بھی شرار تا پولیس کے ساتھ تھا۔اللہ کی قدرت !! جب ایک بستہ کھولا گیا تو سب سے پہلے جو کاغذات برآمد ہوئے وہ پنڈت لیکھرام کے لکھے ہوئے تھے جو اس نے نشان نمائی کے مطالبہ کے لئے اپنے قلم سے حضور کے نام لکھے تھے۔تلاشی بہت دیر تک جاری رہی۔بعض ٹرنکوں کے قفل تو ڑ کر بھی سامان دیکھے گئے۔اور پولیس نے گھر کا کونہ کو نہ چھان مارا۔مگر کچھ بر آمد نہ ہوا۔تلاشی کے دوران میں حضرت اقدس کے روئے منور پر کسی قسم کی فکر و تشویش کے آثار قطعا نہیں تھے۔بلکہ آپ بالکل مطمئن و مسرور تھے۔حضور کے گھر کی تلاشی کے بعد مہمانخانہ ، مطبع اور حضرت مولانا نور الدین کے مکان کی بھی تلاشی ہوئی۔دیواری الماریاں بھی دیکھیں گئیں۔اور پتھر کی سل تک لوٹ پوٹ کی گئی۔مگر پولیس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔اس موقعہ پر تلاشی کے واقعات کے متعلق حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی عینی شہادت کا درج کرنا ضروری ہے۔آپ نے فرمایا ( حضرت سیدہ نواب) مبارکہ کا چلہ نہانے کے دو تین دن بعد میں اوپر کے مکان میں چارپائی پر بیٹھی تھی اور تم ( مراد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی) میرے پاس کھڑے اور بھیجو گھر کی ایک خادمہ کا نام بھی پاس تھی۔کہ تم نے نیچے کی طرف اشارہ کر کے کہا۔"اماں اور پائی۔میں نہ سمجھی۔تم نے دو تین دفعہ دہرایا اور نیچے کی طرف اشارہ کیا۔جس پر بیجو نے نیچے دیکھا تو ڈیوڑھی کے دروازے میں ایک سپاہی کھڑا تھا۔پھیجو نے اسے ڈانٹا۔کہ یہ زنانہ مکان ہے۔تو کیوں دروازے میں آگیا ہے۔اتنے میں مسجد کی طرف کا دروازہ بڑے زور سے کھنکا۔پتہ لگا کہ اس طرف سے بھی ایک سپاہی آیا ہے حضرت صاحب اندر دالان میں بیٹھے کچھ کام کر رہے تھے۔میں نے محمود (حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ان کی طرف بھیجا کہ سپاہی آئے ہیں اور بلاتے ہیں حضرت صاحب نے فرمایا کہو کہ میں آتا ہوں۔پھر آپ نے بڑے اطمینان سے اپنا بستہ بند کیا اور اٹھ کر مسجد کی طرف گئے۔وہاں مسجد میں انگریز کپتان پولیس کھڑا تھا۔اور اس کے ساتھ دوسرے پولیس کے آدمی تھے۔کپتان نے حضرت صاحب سے کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لیکر ام کے قتل کے متعلق آپ کے گھر کی تلاشی لوں۔حضرت صاحب نے کہا آئے اور کپتان کو معہ دوسرے آدمیوں کے جن میں بعض دشمن بھی تھے۔مکان کے اندر لے آئے۔اور تلاشی شروع ہو گئی۔پولیس نے مکان کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا ہوا تھا۔ہم عورتیں اور بچے ایک طرف ہو گئے۔سب کمروں کی باری باری تلاشی ہوئی اور حضرت صاحب کے