تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 597 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 597

تاریخ احمدیت جلدا ۵۹۶ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام نیز لکھا۔”ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لیکھرام رجوع کرنا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرنا کہ وہ بد زبانیوں سے باز آجاتا۔تو مجھے اللہ تعالٰی کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی وہ زندہ ہو جاتا۔وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں اس سے کوئی بات انہونی نہیں۔اور خوشی اس بات کی ہے کہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی"۔آپ نے سازش کا الزام لگانے والوں سے پوچھا۔کہ آپ لوگوں میں بھی بڑے بڑے اوتار گزرے ہیں جیسے راجہ را چند ر صاحب اور راجہ کرشن صاحب۔کیا آپ لوگ ان کی نسبت یہ گمان کر سکتے ہیں کہ انہوں نے پیشگوئی کر کے پھر اپنی عزت رکھنے کے لئے ایسا حیلہ کیا ہو کہ کسی اپنے چیلہ کی منت سماجت کی ہو کہ اس کو اپنی کوشش سے پوری کر کے میری عزت رکھ لے پس کیونکر ممکن ہے کہ دعوئی تو یہ ہو کہ میں وقت کا عینی ہوں اور جھوٹی پیشگوئی کو اس طرح پورا کرنا چاہے کہ مریدوں کے آگے ہاتھ جوڑے کہ کسی طرح میری پیشگوئی پوری ہو۔کیا ایسا مردار ایک پاک جماعت کا مالک ہو سکتا ہے۔کہاں ہے تمہارا پاک کا شنس۔اے مہذب آریو۔اور کہاں ہے فطرتی زیر کی۔اے آریہ کے دانشمند ر ا ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرد اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ آگ بجھانے میں مدد دے تو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کو چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا۔تو میں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں اور پھر بالخصوص ہماری جماعت جو نیکی اور پرہیز گاری سیکھنے کے لئے میرے پاس جمع ہے وہ اس لئے میرے پاس نہیں آتے کہ ڈاکوؤں کا کام مجھ سے سیکھیں اور اپنے ایمان کو برباد کریں۔میں حلفاً کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ مجھے کسی قوم سے دشمنی نہیں ہاں جہاں تک ممکن ہے ان کے عقائد کی اصلاح It چاہتا ہوں اور اگر کوئی گالیاں دے تو ہمار اشکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اور عدالت میں "۔آریوں کی بدگمانیوں کا ہر پہلو سے ازالہ کر کے آپ نے ان کے سامنے بالاخر فیصلہ کا یہ آسان طریق رکھا کہ اگر اب بھی کسی کا خیال ہے کہ میں نے لیکھرام کے قتل کی سازش کی ہے۔تو ایسا شخص میرے سامنے قسم کھائے کہ میں یقینا جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے۔پس اگر یہ صحیح نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس تک میری بد دعا سے بچ گیا تو میں مجرم ہوں اور اس سزا کے