تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 596
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۹۵ پنڈت لیکھرام کا عبرتناک انجام اس پیشگوئی سے متعلق نہ لکھیں اور نہ کوئی ایسی پیشگوئی کریں لاہور میں بڑا تہلکہ بپا ہے اور چاروں طرف شور و غل مچ رہا ہے۔وہ بار بار اصرار سے کہتا تھا۔کہ پیسے مجھ سے لے لو اور خط لکھدو۔احتیاط اچھی چیز ہے۔لگا بیگانوں کی دہشت کا یہ عالم ہو تو لاہور کی احمد یہ جماعت پر کیا گزری ہوگی۔لیکن خدا کے بہا در پہلوان کو دیکھو کہ ادھر یہ اطلاع سنی ادھر آریوں کو اسلام کے اس چپکتے ہوئے نشان کی طرف توجہ دلانے کے لئے اشتہار لکھا کہ اگر چہ انسانی ہمدردی کی رو سے ہمیں افسوس ہے کہ اس کی موت ایک سخت مصیبت اور آفت اور ناگہانی حادثہ کے طور پر مین جوانی کے عالم میں ہوئی۔لیکن دوسرے پہلو کی رو سے ہم خدا تعالی کا شکر کرتے ہیں جو اس کے منہ کی باتیں آج پوری ہو ئیں۔سو یہ خدا تعالی کی طرف سے ایک عظیم الشان نشان ہے کیونکہ اس نے چاہا کہ اس بندہ کی تحقیر کرنے والے متنبہ ہو جائیں اور اپنی جانوں پر رحم کرین ایسا نہ ہو کہ اسی حجاب میں گزر جائیں"۔اس اشتہار کا عنوان تھا۔کرایت گرچه بے نام و نشان است اس اشتہار کے تین روز بعد آپ نے سرسید احمد خان پر اتمام حجت کے لئے بھی اشتہار دیا اور انہیں بتایا کہ "بركات الدعا" میں لیکھرام سے متعلق قبل از وقت جس دعائے مستجاب کی اطلاع دی گئی تھی وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے کمال صفائی سے پوری ہو گئی ہے اس لئے اب آپ ایسے منصف مزاج کو اپنے اس خیال سے رجوع کر لینا چاہیے کہ دعا محض عبادت ہے جو قبول نہیں ہوتی۔جیسا کہ رسالہ "الدعاء والاستجابت " میں ظاہر کیا گیا ہے۔بیا بنگر ز غلمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف یہ پیشگوئی جس خارق عادت رنگ میں اپنی ایک سے اتمام حجت اور آریوں کو چیلینج ایک شق کے ساتھ پوری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر ہر سعید الفطرت ورطہ حیرت میں پڑ گیا مگریہی بات آریوں کے لئے انکار و تکذیب کا موجب بن گئی۔چنانچہ انہوں نے ملک بھر میں مشہور کر دیا کہ مرزا صاحب نے پنڈت جی کو قتل کروا دیا ہے اور ثبوت یہ پیش کیا کہ آپ نے برسوں قبل اس کی ہلاکت کے بارے میں جو کچھ خبر دی تھی یہ حادثہ عین اسی رنگ سے وقوع میں آگیا ہے۔حضور نے تکذیب د استهزاء کا یہ رنگ دیکھا تو آپ نے اشتہاروں پر اشتہار دیئے اور تحدی کے ساتھ ان کو بتایا کہ لیکھرام کے قتل میں کسی انسانی منصوبہ کا ہر گز دخل نہیں ہے۔اسلام اور آریہ مذہب کا خدا تعالی کی درگاہ میں برسوں سے ایک مقدمہ دائر تھا سو آخر ۶ - مارچ ۱۸۹۷ء کے اجلاس میں اس عدالت نے مسلمانوں کے حق میں ایسی ڈگری دی جس کی نہ کوئی اپیل اور نہ مرافعہ - آریہ صاحبوں کو چاہیے کہ اب گورنمنٹ کو تکلیف نہ دیں۔مقدمہ صفائی سے فیصلہ پاچکا۔