تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 574
تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۷۳ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح بابو پر تول چند ر صاحب اور مسٹر بینر جی نہایت خوشی سے شریک جلسہ ہوئے۔اس جلسے کے لئے سابق چھ پریذیڈنٹ مقرر ہو چکے تھے جن کے نام نامی یہ ہیں (۱) رائے بہادر بابو پر تول چندر چٹرجی چیغکورٹ پنجاب (۲) خان بهادر شیخ خدابخش صاحب حج اسمال کا زکورٹ لاہور (۳) رائے بہادر پنڈت رادھا کشن صاحب کول پلیڈ ر چیف کورٹ و سابق گورنرجموں (۴) سردار دیال سنگھ صاحب رئیس اعظم مجیٹھ (۵) رائے بہادر بھوانید اس صاحب افسر بند و بست ضلع جہلم - (۶) مولوی حکیم نور الدین صاحب سابق طبیب شاہی مہاراجہ صاحب بہادر والی کشمیر اور یہی مولوی صاحب تھے جو اختتام جلسہ پر خاتمہ کی تقریر کرنے کے لئے مقرر کئے گئے تھے "۔لیکچر کا غیر زبانوں میں ترجمہ اور عالمگیر مقبولیت ۱۸۹۷ء میں پہلی دفعہ یہ شہرہ آفاق رکتابی شکل میں بزبان اردو شائع ہوا۔لیکن جلد ہی اسے مختلف زبانوں میں منتقل کرنے کی ضروررت محسوس ہوئی۔چنانچہ اب دنیا کی تمام بڑی بڑی زبانوں مثلاً عربی - فارسی، انگریزی ، جرمنی ، انڈو نیشی ، ہسپانوی، برمی ، چینی اور سہیلی کے علاوہ کنیاری ، ہندی اور گور لکھی میں اس کے تراجم شائع ہو چکے ہیں اور جیسا کہ حضرت اقدس کو کشف میں بتایا گیا تھا۔دنیا بھر میں اسلام کی اشاعت و تبلیغ کا موثر ترین ذریعہ بن رہے ہیں۔اور بالخصوص مغربی ممالک میں اسلامی تعلیمات کے وسیع اور مقبول ہونے میں تو اس لیکچر کو بڑا بھاری دخل ہے سینکڑوں غیر مسلم اس کا مطالعہ کر کے حلقہ بگوش اسلام ہوئے ہیں اور ایک عالم اس کے پاک انوار سے حق و صداقت کی روشنی کی طرف کھچا آرہا ہے اسلامی اصول کی فلاسفی " کا انگریزی ترجمہ جناب مولوی محمد علی صاحب ایم اے نے کیا تھا۔اور اس پر نظر ثانی مسٹر محمد الیگزنڈر رسل ویب (امریکہ) حضرت مولوی شیر علی صاحب بی اے اور چودھری غلام محمد صاحب سیالکوٹی نے کی تھی۔یہ ترجمہ ۱۹۱۰ء کے وسط میں لنڈن میں چھپا تھا۔اسلامی اصول کی فلاسفی مغربی مفکرین کی نظر میں امریکہ و یورپ میں جب " اسلامی اصول کی فلاسفی" کے ترجمہ کی اشاعت ہوئی تو اسے زبر دست مقبولیت نصیب ہوئی۔اور مغربی مفکرین نے اس لیکچر کو بے حد سراہا۔چند آراء بطور مثال درج ذیل ہیں۔نامور روسی مفکر اکاؤنٹ ٹالسٹائی نے کہا۔: "The ideas are very profound and very true“۔یہ خیالات نہایت گہرے اور نیچے ہیں۔