تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 573 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 573

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۷۲ جلسه مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح اس جلسہ کی طرف کوئی جو شیلی توجہ نہیں فرمائی اور نہ ہمارے مقدس زمرہ علماء سے کسی اور لائق فرد نے اپنا مضمون پڑھنے یا پڑھوانے کا عزم بتایا۔ہاں دو ایک عالم صاحبوں نے بڑی ہمت کر کے ما نحن فيها میں قدم رکھا۔مگر الٹا۔اس لئے انہوں نے یا تو مقرر کردہ مضامین پر کوئی گفتگو نہ کی۔یا بے سروپا کچھ ہانک دیا۔جیسا کہ ہماری آئندہ کی رپورٹ سے واضح ہو گا۔غرض جلسہ کی کارروائی سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف ایک حضرت مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان تھے جنہوں نے اس میدان مقابلہ میں اسلامی پہلوانی کا پورا حق ادا فرمایا ہے۔اور اس انتخاب کو راست کیا ہے جو خاص آپ کی ذات کو اسلامی وکیل مقرر کرنے میں پشاور - روالپنڈی جہلم - شاہ پور بھیرہ - خوشاب - سیالکوٹ - جموں وزیر آباد - لاہور - امرت سر گورداسپور- لودھیانہ شملہ - دہلی- انبالہ - ریاست پٹیالہ - کپور تھلہ - ڈیرہ دون- الہ آباد - مدراس ہیتی - حیدر آباد دکن۔بنگلور وغیرہ بلاد ہند کے مختلف اسلامی فرقوں سے وکالت ناموں کے ذریعہ مزین بدستخط ہو کر وقوع میں آیا تھا۔حق تو یہ ثابت ہوتا ہے۔کہ اگر اس جلسے میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون نہ ہو تا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے رو برو ذلت و ندامت کا قشقہ لگتا۔مگر خدا کے زبر دست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچالیا۔بلکہ اس کو اس مضمون کی بدولت ایسی فتح نصیب فرمائی کہ موافقین تو موافقین مخالفین بھی کچی فطرتی جوش سے کہہ اٹھے کہ یہ مضمون سب پر بالا ہے۔بالا ہے۔صرف اسی قدر نہیں بلکہ اختتام مضمون پر حق الا مر معاندین کی زبان پریوں جاری ہو چکا کہ اب اسلام کی حقیقت کھلی اور اسلام کو فتح نصیب ہوئی۔جو انتخاب تیر بہدف کی طرح روز روشن میں ٹھیک نکلا۔اب اس کی مخالفت میں دم زدن کی گنجائش ہے ہی نہیں۔بلکہ وہ ہمارے فخرو ناز کا موجب ہے اس لئے اس میں اسلامی شوکت ہے اور اسی میں اسلامی عظمت اور حق بھی یہی ہے۔اگر چه جلسه اعظم مذاہب کا ہند میں یہ دوسرا اجلاس تھا لیکن اس نے اپنی شان و شوکت اور جاہ و عظمت کی رو سے سارے ہندستانی کانگرسوں اور کانفرنسوں کو مات کر دیا ہے ہندوستان کے مختلف بلاد کے رؤسا اس میں شریک ہوئے۔اور ہم بڑی خوشی کے ساتھ یہ ظاہر کیا چاہتے ہیں۔کہ ہمارے مدراس نے بھی اس میں حصہ لیا ہے جلسہ کی دلچسپی یہاں تک بڑھی کہ مشتہرہ تین دن پر ایک دن بڑھانا پڑا۔انعقاد جلسہ کے لئے کارکن کمیٹی نے لاہور میں سب سے بڑی وسعت کا مکان اسلامیہ کالج تجویز کیا لیکن خلق خدا کا ازدحام اس قدر تھا کہ مکان کی (وسعت) غیر متفی ثابت ہوئی۔جلسہ کی عظمت کا یہ کافی ثبوت ہے کہ کل پنجاب کے عمائدین کے علاوہ چیف کورٹ اور ہائیکورٹ آلہ آباد کے آنریبل مجز