تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 572 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 572

تاریخ احمدیت جلدا جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح موقعہ پر ایک اعلیٰ درجہ کا بزرگ ان میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں سنانے کے لئے جلسہ میں تشریف لا دیں۔میں نے جیسا کہ مسلمانوں کو قسم دی ایسا ہی بزرگ پادری صاحبوں کو حضرت مسیح کی قسم دیتا ہوں اور ان کی محبت اور عزت اور بزرگی کا واسطہ ڈال کر خاکساری کے ساتھ عرض پرواز ہوں۔کہ اگر کسی اور نیت کے لئے نہیں تو اس قسم کی عزت کے لئے ضرور اس جلسہ میں ایک اعلیٰ بزرگ ان میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے کے لئے تشریف لادیں۔ایسا ہی میں اپنے بھائیوں آریہ سماج والوں کی خدمت میں اس پر میشر کی قسم دے کر جس نے دید مقدس کو ا پنت کیا عاجزانہ عرض کرتا ہوں۔کہ اس جلسہ میں ضرور کوئی اعلیٰ واعظ ان کا تشریف لا کر دید مقدس کی خوبیاں بیان کرے۔اور ایسا ہی صاحبان سناتن دھرم اور برہمو صاحبان وغیرہ کی خدمت میں اسی قسم کے ساتھ التماس ہے پبلک کو اس اشتہار کے بعد ایک فائدہ بھی حاصل ہو گا کہ ان تمام قوموں میں سے کس قوم کو در حقیقت اپنے خدا کی عزت اور قسم کا پاس ہے اور اگر اس کے بعد بعض صاحبوں نے پہلو تہی کی تو بلا شبہ ان کا پہلو تہی کرنا گویا اپنے مذہب کی سچائی سے انکار ہے "۔انھی۔اب ہمارے ناظرین کو غور کرنا چاہیے کہ اس جلسے کے اشتہاروں وغیرہ کے دیکھنے اور دعوتوں کے پہنچنے پر کن کن علمائے ہند کی رگ حمیت نے مقدس دین اسلام کی وکالت کے لئے جوش کھایا۔اور کہاں تک انہوں نے اسلامی حمایت کا بیڑا اٹھا کر مجھ و براہین کے ذریعے فرقانی ہیبت کا سکہ غیر مذاہب کے دل پر بٹھانے کے لئے کوشش کی ہے۔ہمیں معتبر ذریعے سے معلوم ہوا ہے کہ کارکنان جلسہ نے خاص طور پر حضرت مرزا غلام احمد صاحب اور سرسید احمد صاحب کو شریک جلسہ ہونے کے لئے خط لکھا تھا تو حضرت مرزا صاحب نے گو علالت طبع کی وجہ سے بنفس نفیس شریک جلسہ نہ ہو سکے مگر اپنا مضمون بھیج کر اپنے ایک شاگرد خاص جناب مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کو اس کی قرات کے لئے مقرر فرمایا۔لیکن جناب سرسید نے شریک جلسہ ہونے اور مضمون بھیجنے سے کنارہ کشی فرمائی یہ اس بنا پر نہ تھا کہ وہ معمر ہو چکے اور ایسے جلسوں میں شریک ہونے کے قابل نہ رہے ہیں اور نہ اس بناء پر تھا کہ انہیں ایام میں ایجو کیشنل کانفرنس کا انعقاد میرٹھ میں مقرر ہو چکا تھا بلکہ یہ اس بناء پر تھا کہ مذہبی جلسے ان کی توجہ کے قابل نہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنی چٹھی میں جس کو ہم انشاء اللہ تعالیٰ اپنے اخبار میں کسی اور وقت درج کریں گے صاف لکھ دیا ہے کہ وہ کوئی واعظ یا ناصح یا مولوی نہیں۔یہ کام واعظوں اور ناصحوں کا ہے جلسے کے پروگرام کے دیکھنے اور نیز تحقیق کرنے سے ہمیں یہ پتہ ملا ہے کہ جناب مولوی سید محمد علی صاحب کانپوری - جناب مولوی عبدالحق صاحب دہلوی اور جناب مولوی احمد حسین صاحب عظیم آبادی نے