تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 563 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 563

تاریخ احمدیت۔جلدا ۵۶۲ جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح طرف لے جا رہا ہے۔دل و دماغ اس آسمانی مائدہ سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ یکا یک مضمون کا مقررہ وقت ختم ہو گیا۔یہ دیکھ کر مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب سیالکوٹی نے اعلان کیا کہ میں اپنا وقت بھی حضرت اقدس کے مضمون کے لئے دیتا ہوں۔اس اعلان نے مجمع میں خوشی اور مسرت کی برقی لہردو ژادی اور پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا اور پھر علم و حکمت کے موتی لٹنے لگے۔مضمون ابھی باقی تھا کہ وقت پھر ختم ہو گیا اب کی دفعہ چاروں طرف سے شور برپا ہوا کہ جلسہ کی کارروائی اس وقت تک ختم نہ کی جائے جب تک یہ مضمون ختم نہ ہوئے اور جلسہ کے منتظمین کو یہی کرنا پڑا۔سامعین نے یہ سن کر پھر تالیوں کے ذریعہ سے اپنی مسرت ظاہر کی اور مضمون نہایت ذوق و شوق اور یکساں دلچسپی سے شام کے ساڑھے پانچ بجے تک مسلسل چار گھنٹہ تک جاری رہا۔سامعین کی بے خودی اور محویت یہاں تک بڑھی کہ انہوں نے یہی سمجھ لیا کہ پانچوں سوالات کے جوابات پڑھ دیئے گئے ہیں لیکن حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے بلند آواز سے فرمایا کہ حضرات جو کچھ آپ نے سنا ہے یہ صرف پہلے سوال کا جواب ہے چار سوالوں کے جوابات ابھی باقی ہیں۔مولانا کا یہ کہنا تھا کہ سامعین نے یک زبان ہو کر بڑے زور شور سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب چار سوالوں کے جواب ابھی باقی ہیں تو جلسہ کے لئے ایک اور دن کیوں نہ بڑھا دیا جائے یہ زبردست مطالبہ چاروں طرف سے اتنی شدت سے بلند ہوا کہ منتظمین جلسہ کو اعلان کرنا پڑا کہ سامعین کی خاطر جلسہ کے لئے ایک دن کا اضافہ کیا جاتا ہے۔اس اعلان پر پبلک نے جس جوش و خروش سے اظہار شادمانی کیا وہ دیکھنے کی چیز تھی الفاظ اس کا نقشہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔حلے کے منتظمین کا بیان ۲۷- دسمبر کے دن کی اس کارروائی سے متعلق منتظمین جلسہ کے بیانات درج ذیل ہیں۔پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریر کے بعد نصف گھنٹہ کا وقفہ تھا لیکن چونکہ بعد از وقفہ ایک نامی وکیل اسلام کی طرف سے تقریر کا پیش ہونا تھا اس لئے اکثر شا ئقین نے اپنی اپنی جگہ کو نہ چھوڑا۔ڈیڑھ بجے میں ابھی بہت سا وقت رہتا تھا کہ اسلامیہ کالج کا وسیع میدان جلد جلد بھرنے لگا۔اور چند ہی منٹوں میں تمام میدان پر ہو گیا اس وقت کوئی سات اور آٹھ ہزار کے درمیان مجمع تھا۔مختلف مذاہب و ملل اور مختلف سوسائٹیوں کے معتد بہ اور ذی علم آدمی موجود تھے۔اگر چہ کرسیاں اور میزیں اور فرش نہایت ہی وسعت کے ساتھ مہیا کیا گیا لیکن صدہا آدمیوں کو کھڑا ہونے کے سوا اور کچھ نہ بن پڑا۔اور ان کھڑے ہوئے شائقینوں میں بڑے بڑے رؤساء عمامہ پنجاب - علماء فضلاء- بیرسٹر- وکیل - پروفیسر اکسٹرا اسٹنٹ۔ڈاکٹر غرض کہ اعلیٰ طبقہ کے مختلف برانچوں کے ہر قسم کے آدمی موجود تھے۔ان لوگوں