تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 562
تاریخ احمدیت۔جلدا 041 جلسہ مذاہب عالم " میں اسلام کی شاندار فتح خواجہ صاحب کی خواہش پر ان کو پڑھنے کے لئے دیا تو انہوں نے اس پر کچھ نا امیدی کا اظہار کر کے اندیشہ ظاہر کیا کہ یہ مضمون قدر کی نگاہوں سے نہ دیکھا جائے گا۔اور خواہ مخواہ نہس کا موجب ہو گا۔چنانچہ خود حضرت اقدس مسیح موعود نے ایک دفعہ فرمایا۔" مہوتسو کے جلسہ اعظم مذاہب کے واسطے جب ہم نے مضمون لکھا تو طبعیت بہت علیل تھی اور وقت نہایت تنگ تھا۔اور ہم نے مضمون جلدی کے ساتھ اس تکلیف کی حالت میں لیٹے ہوئے لکھا۔اس کو سنکر احباب میں سے ایک نے کچھ نا پسندیدگی کا منہ بنایا۔اور پسند نہ کیا کہ مذاہب کے اتنے بڑے عظیم الشان جلسہ میں وہ مضمون پڑھا جائے۔جلسے کی کارروائی کا آغاز بهر حال ۲۶ - دسمبر ۱۸۹۶ء ٹھیک دس بجے انجمن حمایت اسلام کے ہائی سکول واقع شیر انوالہ کے وسیع احاطہ میں جلسہ شروع ہوا حضرت اقدس کا مضمون دوسرے دن ڈیڑھ بجے کی دوسری نشست میں پڑھا جانا تھا۔اس لئے اس سے قبل ایشری پر شار صاحب مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی اور برد دا کنٹہ صاحب، مولوی شاء اللہ صاحب امرت سری ، بابو بیجارام صاحب اور پنڈت گوردھن داس صاحب کی تقریریں ہو ئیں۔اس زمانے میں ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا طوطی بول رہا تھا اور ہر طرف ان کی بڑی شہرت تھی۔اور مولوی ثناء اللہ امرتسری صاحب ابھی نوجوان تھے اور نئے نئے منظر عام پر آئے تھے لیکن مولوی ابو سعید صاحب کی تقریر مولوی ثناء اللہ صاحب کی تقریر کی گرد کو بھی نہ پہنچ سکی۔حضرت اقدس کا مضمون اور سامعین کا ذوق و شوق جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے حضرت اقدس کے مضمون کے لئے دوسرے دن کی دوسری نشست مقرر تھی۔جس کا وقت اگر چہ ڈیڑھ بجے شروع ہو نا تھا مگر مخالفت کے باوجو د دلوں میں ایسی تحریک پیدا ہو گئی کہ پہلی نشست میں بیٹھنے والے بھی اپنی اپنی جگہ پر جسے رہے اور ہزاروں سامعین چاروں طرف سے امڈ پڑے۔نتیجہ یہ ہوا۔کہ کار روائی سے قبل ہی جلسہ کا پنڈال کھچا کھچ بھر گیا اور سینکڑوں اشخاص جن میں ملک کے بڑے بڑے سر بر آوردہ افراد رؤسا معہ ڈاکٹر اور وکلاء شامل تھے کھڑے ہونے پر مجبور ہو گئے آخر حضرت مولانا عبد الکریم صاحب جیسے فصیح البیان نے اپنی دلکش و دل نشین آواز سے حضرت اقدس کا مضمون پڑھنا شروع کیا۔حضرت مسیح پاک علیہ السلام کا تائید روح القدس سے لکھا ہوا مضمون اور مولانا عبد الکریم صاحب کی شیریں زبان نے ہزاروں کے اس تاریخی اجتماع پر کیف و سرور کاوہ عالم طاری کر دیا کہ فلک نے آج تک سرزمین ہند میں کبھی نہ دیکھا ہو گا۔ایسا نظر آتا تھا کہ گویا ملا ئک آسمان سے نور کے طبق لے کے حاضر ہو گئے ہیں اور ایک دست غیب اپنی مقناطیسی جذب و کشش سے ہر دل کو کشاں کشاں عالم وجد کی