تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 38 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 38

تاریخ احمدیت جلدا دہلی پر بٹھایا جائے۔۳۷ خاندانی حالات اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ میرے پردادا صاحب موصوف یعنی مرزا گل محمد نے ہچکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اور عوارض بھی تھے وفات پائی تھی۔بیماری کے غلبہ کے وقت اطباء نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالبا اس سے فائدہ ہو گا مگر جرات نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں عرض کریں۔آخر بعض نے ان میں سے ایک نرم تقریر میں عرض کر دیا۔تب انہوں نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیدا کردہ اور بہت سی دوائیں ہیں۔میں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا کی قضاء و قدر پر راضی ہوں۔آخر چند روز کے بعد اسی مرض سے انتقال فرما گئے۔موت تو مقدر تھی مگر یہ ان کا طریق تقویٰ ہمیشہ کے لئے یاد گار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا۔موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا لیکن انہوں نے معصیت کرنے سے موت کو بہتر سمجھا۔افسوس ان نوابوں اور امیروں اور رئیسوں کی حالت پر کہ اس چند روزہ زندگی میں اپنے خدا اور اس کے احکام سے بھلی لا پرواہ ہو کر اور خدا تعالیٰ سے سارے علاقے تو ڑ کر دل کھول کر ارتکاب معصیت کرتے ہیں اور شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں اور اس طرح اپنی زندگی کو نہایت پلید اور ناپاک کر کے اور عمر طبعی سے بھی محروم رہ کر اور بعض ہولناک عوارض میں مبتلا ہو کر جلد تر مر جاتے ہیں اور آئندہ نسلوں کے لئے نہایت خبیث نمونہ چھوڑ جاتے ہیں۔(صفحہ ۱۴۴ تا ۱۵۴ حاشیہ طبع اول) حضرت اقدس" ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں: " مرزا صاحب مرحوم ایک مرد اولی العزم اور متقی اور غایت درجہ کے بیدار مغز اور اول درجہ کے بہادر تھے۔اگر اس وقت مشیت الہی مسلمانوں کے مخالف نہ ہوتی تو بہت امید تھی کہ ایسا بہادر اور اولی العزم آدمی سکھوں کی بلند شورش سے پنجاب کا دامن پاک کر کے ایک وسیع سلطنت اسلام کی اس میں قائم کر دیتا۔جس حالت میں رنجیت سنگھ نے باوجود اپنی تھوڑی سی پدری ملکیت کے جو صرف نو گاؤں تھے تھوڑے ہی عرصہ میں اس قدر پیر پھیلائے تھے جو پشاور سے لدھیانہ تک خالصہ ہی خالصہ نظر آتا تھا اور ہر جگہ ٹڈیوں کی طرح سکھوں کی ہی فوجیں دکھائی دیتی تھیں۔تو کیا ایسے شخص کے لئے یہ فتوحات قیاس سے بعید تھیں ؟ جس کی گمشدہ ملکیت میں سے ابھی چوراسی یا پچاسی گاؤں باقی تھے اور ہزار کے قریب فوج کی جمعیت بھی تھی۔اور اپنی ذاتی شجاعت میں ایسے مشہور تھے کہ اس وقت کی شہادتوں سے یہ بداہت ثابت ہوتا ہے کہ اس ملک میں ان کا کوئی نظیر نہ تھا۔لیکن چونکہ خدا تعالیٰ نے یہی چاہا تھا کہ مسلمانوں پر ان کی بے شمار غفلتوں کی وجہ سے تنبیہہ نازل ہو اس لئے مرزا صاحب