تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 517
تاریخ احمدیت جلد تبلیغ رسالت " جلد سوم صفحے ۱۷ ۳۲- حلیہ الی نعیم (بحوالہ اقرب الساعة) متحد ۱۳۸ ۵۱۶ مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے ۳۳- اشارات فریدی حصہ سوم صفحہ پر لکھا ہے کہ مرز اعلام احمد صاحب قادیانی عبد اللہ آتھم پادری که معاندی بود اعتماد حضور خواجه اتجاه الله تعالی بیان فرموند که اگر چہ عبد الله انتم از حد در اندازه مدت پینگوئی مرزا غلام احمد قادیانی که نسبت موت ہی کہ وہ بود مردان افتاده است چنانچه بعد میعار پیشگوئی فوت شده گر به نفس مرزا صاحب مرده است۔The Official Report Of the Missonary Conference of the Anglican Communion- 1″**** 1894۔P۔64۔۳۵ - الشاعۃ السنہ " جلد نمیرے صفح ۹۷ ۳۷۳ اشاعۃ السنہ نمبر ۳ صفحه ۲۹ ۳۸ - خود مولوی محمد حسین صاحب بیالوی نے بھی اشاعتہ الہ جدا نمیرہ ملے پر اس جاگیر کا تذکرہ کیا ہے۔۳۹ - اخبار الاعتصام (گوجر انوالہ ) اکثر بی ۵۷ و صلحنا ۲۰۔سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور ۲۴- اکتوبر ۱۸۹۴ء صفحه ۳ کالم نمبر ۳ (انگریزی سے ترجمہ) بحوالہ اپنی سلسلہ احمدیہ اور انگریز مصلح ے ہے طبع اول ( از مولانا عبد الرحیم صاحب (درد) ۴۱ - ولادت ۱۸۴۸ء وفات ۲۱ جون ۱۸۸۵ء مفصل سوانح کے لئے ملاحظہ ہو کتاب ”مہدی سوڈانی " متولفہ آغا رفیق - ۴۲ اشاعۃ السنہ جلد ۱ ۱ صفحه ۲۳۸ اشاعۃ السنہ جلد ۱۹ نمبر صفحہ ۳۷ ۴۴ - ۱۳۱۳ اصحاب کہار میں آپ کا نمبر ۲۹ ہے۔خلافت ثانیہ کے ابتدائی دور میں فوت ہو گئے۔حضرت سیٹھ صاحب سلسلہ احمدیہ کے ان عظیم مجاہدین میں سے ہیں جنہیں حضرت مسیح پاک کے زمانے میں بڑی بڑی مالی قربانیوں کی توفیق ملی۔حضرت اقدس نے آپ کو نمونہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے۔ان کا صدق اور ان کی مسلسل خدمات جو محبت اور اعتقاد اور یقین سے بھری ہوئی ہیں تمام جماعت کے ذی مقدرت لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہیں "۔(اشتہار الانصار ۴۔اکتوبر ۱۸۹۹ء) ۴۵ - صاحب کشف والہام تھے اور عالم صوفی بھی۔۱۸۷۳ء میں پیدا ہوئے۔اور ۹- جولائی ۱۹۵۷ء کو ربوہ میں انتقال فرمایا۔- ولادت ۱۸۷۳ء میں وفات ۲۶ جولائی ۱۹۳۹ء) متصل حالات کے لئے ملاحظہ ہو اصحاب احمد جلد اول صفحه ۹۷ تا ۱۵ ۴۷ - ولادت ۱۸۷۰ء وفات ۲۸- د کمبر ۱۹۳۲ء آپ طالب علمی کے زمانہ میں اسلام سے متنفر ہو کر عیسائیت اختیار کر لینے کا فیصلہ کر چکے تھے کہ انہیں کہیں سے براہین احمدیہ "ہاتھ لگ گئی۔اس کتاب کا پڑھنا تھا کہ تمام شکوک شبہات دور ہو گئے قادیان پہنچے اور حضرت اقدس کی بیعت کر کے اسلام پر قائم ہو گئے اور پھر حضور کی برکت سے لارڈ ہیڈلے سر عبد اللہ آرچی ٹائٹر لیمٹن ، سر عمر ہیوبرٹ ر لیکن مسٹر محمد ار ماڈیوک پکتھال اور دوسرے کئی انگریزوں کو مسلمان کرنے کی سعادت پائی۔