تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 507
تاریخ احمدیت جلدا 0۔4 مرکز اسلام میں حضرت مسیح موعود کی آمد کے تذکرے تھا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔مگر ہم سمجھتے تھے کہ جو حالت ہم نے آتھم صاحب کی دیکھی ہے اس سے تو ان کا مرجانا ہی اچھا تھا۔اس پندرہ ماہ کی میعاد میں آتھم صاحب میں ایک بڑا بھاری تغیر یہ پیدا ہوا کہ وہ پہلے تو الوہیت مسیح کے مسئلے پر بحث کرتے رہے تھے۔مگر اب وہ اپنی گذشتہ روش سے ہٹ کر اسلام کے رد اور عیسائیت کی تائید سے کنارہ کش ہو گئے۔اور یہ اقرار کر لیا کہ میں عام عیسائیوں کے عقیدہ امنیت والوہیت مسیح کے ساتھ متفق نہیں اور نہ میں ان عیسائیوں سے متفق ہوں جنہوں نے آپ (یعنی حضرت مرزا صاحب ناقل) کے ساتھ کچھ بیہودگی کی ہے"۔مكذب علماء کا مظاہرہ صاف ظاہر ہے کہ ان حالات میں پادری آتھم صاحب کے ہلاک نہ ہونے پر عیسائی فریق کے جلوس اور شادمانی در حقیقت ایک شکست خوردہ فریق کی شادمانی تھی۔کیونکہ خدا کے غضب کی لاٹھی ان پر چل چکی تھی ان کے دو جانباز پہلوان معرکہ حق و باطل میں کھیت رہے تھے۔اور تیسرے نے حق کی طرف رجوع کرنے سے جان کی امان پائی تھی۔کیونکہ عذاب کی پیشگوئی میں اس شخص کے جس کے حق میں عذاب آنے کی پیشگوئی کی گئی ہو۔حق کی طرف رجوع کرنے سے میعاد معینہ کے اندر عذاب نہ آنا اور اس رجوع سے انحراف کرنے پر عذاب آجانا یا رجوع کرنے والے کے ہمیشہ کے لئے رجوع پر قائم رہنے سے اس پر کبھی عذاب نہ آنا ایک ثابت شدہ حقیقت ہے او رپادری عبد اللہ آتھم صاحب سے معالمہ اسی حقیقت کے مطابق ہوا تھا۔انہوں نے حق کی طرف رجوع کیا اس لئے معیار معینہ کے اندران پر عذاب نہ آیا۔اور جب انہوں نے رجوع الی الحق سے انحراف کیا تو عذاب نے انہیں آلیا۔اور حق کی طرف رجوع کرنے کی وجہ سے کچھ مدت کے لئے عذاب ملتوی ہو جانا تو کوئی قابل اعتراض امر نہیں ہاں رجوع کا ثابت ہونا بے شک ضروری ہے۔تا تسلی ہو جائے کہ عذاب سنت مستمرہ المیہ کے مطابق ملتوی ہوا ہے۔اس لئے اس پر اعتراض بے جاو نا روا ہے اور جب رجوع کا ثبوت نہ مل جائے تسلی نہیں ہو سکتی۔تو رجوع کا ثبوت خود پادری عبد اللہ آتھم صاحب کے حرکات و سکنات اور حالات و مقالات میں موجود ہے جس کا ذکر اوپر بھی آچکا ہے۔اور نیچے بھی آئے گا۔مگر مکذب علماء کی حق پوشی و ناحق کوشی دیکھئے کہ جب عیسائی فریق کے جس کے لئے عذاب کی پیشگوئی تھی۔دور کن لقمہ اجل ہو گئے تو عیسائیوں میں تہلکہ پڑ گیا۔اور پادری رائٹ ہاول کی جواں مرگی پر تو پادریوں نے ماتمی لباس پہن لیا۔اور شدت صدمہ و اندوہ سے شیخ اٹھے۔کہ "آج رات خدا کے غضب کی بے وقت لاٹھی ہم پر چلی اور اس کی خفیہ تلوار نے بے وقت ہمیں قتل کیا ہے " مگر مکذب علماء اپنے ایڈووکیٹ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی طرح اس خیال پر