تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 479
تاریخ احمدیت جلدا آئینہ کمالات اسلام کی تصنیف دا شاعت اور نہ اس کی روح سے میرا یہ نطق ہے۔اور اگر میں اس پیشگوئی میں کاذب نکلا تو ہر یک سزا بھگتے۔لئے تیار ہوں اور اس بات پر راضی ہوں کہ مجھے گلے میں رسہ ڈال کر کسی سولی پر کھینچا جائے "۔نیز لکھا اب آریوں کو چاہیے کہ سب مل کر دعا کریں کہ یہ عذاب ان کے اس وکیل سے مل جائے"۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کی ولادت آئینہ کمالات اسلام" (صفحہ ۲۶۶) میں حضرت اقدس نے خدا تعالٰی سے اطلاع پا کر یہ پیشگوئی شائع فرمائی کہ "يَاتِي قَمَرُ الْأَنْبِيَاءِ وَامْرُكَ يَنَاتُهُ يَسُرُّ اللَّهُ وَ جَهَكَ وَيُنيرُ بُرْهَانَكَ سيولد لكَ الوَلَدُ وَيدْنى مِنكَ الْفَضْلُ إِنْ نُورِى قَریب یعنی نبیوں کا چاند آئیگا اور تیرا مدعا حاصل ہو جائیگا۔خدا تیرے منہ کو بشاش اور تیری برہان کو روشن کر دیگا۔تجھے عنقریب ایک لڑکا عطا ہو گا اور فضل تیرے نزدیک کیا جائیگا۔یقینا میرا نور قریب ہے، سو اس عظیم الشان پیشگوئی کے مطابق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ۲۰ اپریل ۱۸۹۳ء کو پیدا ہوئے۔جو خاندان حضرت مسیح موعود کے عالی گہر اور خدا تعالٰی کے ایک زندہ نشان ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب کو بچپن میں ایک مرتبہ آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہو گیا پلکیں گر گئیں تھیں۔آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا۔کئی سال تک انگریزی اور یونانی علاج کیا گیا مگر کچھ فائدہ نہ ہوا۔بلکہ حالت اور زیادہ تشویشناک ہو گئی۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی تو حضور کو الہام ہوا - برق طفلی بشیر (میرے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں اچھی ہو گئیں، چنانچہ اس الہام کے ایک ہفتہ بعد اللہ تعالٰی نے آپ کو کامل شفا بخشی۔اور نہ صرف آنکھیں بالکل درست ہو گئیں بلکہ بصیرت کی آنکھیں بھی ایسی روشن ہوئیں کہ مادی اور روحانی علوم کے دروازے آپ پر کھل گئے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی بلند پایہ تالیفات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ خواہش اور تمنا تھی کہ آپ کو ایم۔اے کرایا جائے۔حضور کا منشائے مبارک اس وصیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تا آپ بیسویں صدی میں اسلام کی ترجمانی کا حق ادا کر سکیں۔چنانچہ 1914 ء میں آپ ایم۔اے کا امتحان پاس کرتے ہی قلمی میدان میں آگئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں ایسا شاندار لٹریچر پیدا کر دیا کہ اپنے ہی نہیں بیگانے بھی آپ کے قلم کا لوہا مانے پر مجبور ہوئے۔حضرت صاجزادہ صاحب کو چونکہ ابتداہی سے علم حدیث اور تاریخ اسلام سے ایک خاص فطری تعلق رہا ہے اس لئے ابتدا آپ نے اسلام کی مستقل خدمت کے لئے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ