تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 469
تاریخ احمدیت۔جلدا شقولا ہوئے مولویوں نے کھسیانے ہو کر کہا کہ ہاں ہم مشورہ کر رہے ہیں تھوڑی دیر میں آپ کو اطلاع دی جائے گی آپ تسلی رکھیں۔خواجہ صاحب تاکید کر کے چلے گئے۔مگر جب مولویوں نے خواجہ صاحب کو کچھ نہ بنایا تو خواجہ صاحب کو یقین ہو گیا کہ مولوی صاحبان بحث نہیں کر سکتے۔اور کچی بات بھی یہی تھی۔اس پر خواجہ صاحب خاموش ہو گئے۔البتہ جب حضرت اقدس قادیان واپسی کے لئے تیار ہوئے تو مولوی صاحبان نے آپ کے اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے ایک مطبوعہ اشتہاز آپ کی سواری کے پیچھے پیچھے تقسیم کرنا اور دیواروں پر چسپاں کرنا شروع کر دیا جس کا عنوان تھا۔" مرزا بھاگ گیا"۔امرتسری علماء د و چهار روز بعد مباحثہ کرنے والے عالم کا انتخاب کرنے کے لئے دوبارہ جمع ہوئے مگر کوئی فیصلہ نہ ہوا۔آخر مولوی غلام اللہ صاحب قصوری بولے کہ بحث سے تو انکار نہیں کرنا چاہیے۔ہاں یہ لکھ دو کہ مقام مباحثہ کابل یا مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ ہو گا۔نہ وہاں جائیں گے نہ مباحثہ ہو گا۔۱۸۹۲ء کے بعض صحابہ ۱۸۹۲ء کے بعض مشہور صحابہ یہ ہیں۔(۱) حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب (۲) حضرت میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل (۳) حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب (۴) مرز الیعقوب بیگ صاحب (۵) حضرت منشی شادی خاں صاحب سیالکوئی۔(۲) حضرت پیر منظور محمد صاحب (۷) حضرت حاجی شہزادہ عبدالمجید صاحب (۸) حضرت خان عبد المجید صاحب کپور تھلوی (۹) حضرت مولوی غلام امام صاحب عزیز الواعظین منی پور (۱۰) حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی (11) منشی گلاب دین صاحب رہتای - (۱۲) حضرت مولوی فضل الدین صاحب کھاریاں (۱۳) حضرت مولوی حکیم قطب الدین صاحب (۱۴) حضرت صوفی نبی بخش صاحب (۱۵) حضرت میاں عبد العزیز صاحب او جلوی ) (۲) حضرت پروفیسر علی احمد صاحب بھاگلپوری (۱۷) حضرت خان بہادر غلام محمد صاحب لگتی (۱۸) حضرت حکیم محمد حسین ( مرہم عیسی ) (9) حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہ جہانپوری (vi)