تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 468
تاریخ احمدیت جلد ۴۶۷ سفر لاہور شاگرد منشی محمد یعقوب صاحب سابق اور سیر محکمہ نہر کی تو شیخ نکل گئی۔اور وہ ہاتھ پھیلائے حضور کے قدموں میں جاگرے اور مجمع عام میں بیعت کر لی۔حضرت اقدس کے مباہلہ اور تقریر کی یہ فوری تاثیر ایک عظیم الشان نشان تھا جس نے لوگوں کے دل میں حضور سے ایک عقیدت پیدا کر دی اور وہ بٹالوی صاحب سے بدظن ہو گئے۔چونکہ وقت بہت ہو چکا تھا۔اس لئے انسپکٹر پولیس نے جو عید گاہ میں موجود تھا حضرت اقدس سے بھی تشریف لے جانے کی درخواست کی اور بٹالوی صاحب سے بھی۔عید گاہ سے آنے کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے ہر چند کوشش کی کہ انہیں مسجد خیر الدین (امرتسر میں ہی وعظ کرنے کا موقعہ مل جائے مگر شہر کے عوام اور رؤساء کو ان کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ تھا۔وہ انہیں کیوں موقعہ دیتے۔مولوی صاحب نے یہ ذلت ورسوائی دیکھی تو خود ہی امرت سرسے چلے گئے۔مباہلے کے بعد علماء نے شور مچایا کہ ہم مباہلے کے بعد مباحنے کا چیلنج اور علماء کا فرار سے بحث ہونی چاہیے۔اس پر حضرت اقدس نے ایک اشتہار شائع فرمایا کہ جن مولوی صاحب کو بحث کرنا ہو وہ کوئی مقام تجویز کریں ہم آج سے تیسرے روز یہاں سے چلے جائیں گے پھر کوئی عذر نہ رہے گا لیکن مولوی صاحبان خاموش رہے۔اس پر خواجہ یوسف شاہ صاحب رئیس امرتسر نے مولویوں سے کہا کہ اب آپ بحث کیوں نہیں کرتے جب کہ مرزا صاحب نے بحث منظور کرلی ہے۔مولویوں نے جواب دیا کہ ہم بحث کریں گے پہلے باہم مشور کرلیں چنانچہ وہ مشورہ کی غرض سے محمد جان کی مسجد کے ایک حجرے میں جمع ہوئے اور موزن سے کہہ دیا کہ حجرے کا دروازہ مقفل کر کے چابی اپنے پاس رکھے اور اگر کوئی پوچھے تو کہہ دینا کہ کہیں دعوت پر گئے ہیں دیر میں آئیں گے۔خواجہ یوسف شاہ صاحب مولویوں کو تلاش کرتے ہوئے وہاں آگئے۔موزن سے پوچھا کہ مولوی صاحبان کہاں ہیں ؟ اس نے کہا دعوت میں گئے ہیں۔پھر خواجہ صاحب موصوف مولوی عبد الجبار صاحب کے ہاں گئے وہاں سے بھی یہی جواب ملا اس پر خواجہ صاحب مولویوں کی تلاش میں نکلے اور پتہ لگایا کہ کس کے ہاں دعوت ہے اور دوبارہ محمد جان کی مسجد کی طرف آئے تو اچانک کسی نے تبا دیا کہ تمام مولوی اس مسجد کے نیچے کے حجرہ میں جمع ہیں اور باہر سے قفل لگا ہوا ہے تاکسی کو پتہ نہ لگے۔خواجہ صاحب نے موزن سے پھر پوچھا۔کہ مولوی صاحبان کہاں ہیں؟ موزن نے پھر یہی جواب دیا کہ دعوت میں گئے ہیں۔خواجہ صاحب نے کہا کس کے ہاں ؟ اس کا جواب اس نے خوفزدہ ہو کر دیا کہ مجھے معلوم نہیں۔اس پر خواجہ صاحب نے اس سے کنجی لے کر حجرہ کھولا۔جب اندر جا کر دیکھا تو سب مولوی حجرہ کے اندر بیٹھے ہوئے پائے۔خواجہ صاحب کہنے لگے۔آج تو بحث کا دن ہے اور آپ چھپ کر بیٹھے ہیں کل کو مرزا صاحب چلے جاویں گے تو بحث کس سے ہوگی۔