تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 467
تاریخ احمدیت جلدا ۴۶۶ سفر لاہور حضرت اقدس میدان مباہلہ میں اور حضرت اقدس علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا گریز وقت مقررہ (۲ بجے) پر عید گاہ تشریف لے گئے عید گاہ میں یہ معرکہ حق و باطل دیکھنے کے لئے مسلم اور غیر مسلم کثیر تعداد میں جمع تھے۔مگر کفر علماء میں سے خال خال ہی تھے۔حضرت اقدس ایک درخت کے نیچے عام انبوہ خلائق کے حلقے میں بیٹھ گئے۔کچھ دیر بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی بھی پہنچ گئے اور عید گاہ کے منبر پر بیٹھ کر گالیوں بھرا " وعظ کرنے لگے۔حالانکہ اپنے خط میں یہ شرط تسلیم کر چکے تھے کہ مباہلے کے سوا کوئی فریق کوئی وعظ کرنے کا مجاز نہ ہو گا۔عام لوگوں کو ان کی یہ حرکت بہت ناگوار گزری کہ آئے کس غرض سے تھے اور کرتے کیا ہیں۔آخر کار خواجہ یوسف شاہ صاحب رئیس امرت سرہجوم میں سے ہوتے ہوئے حضرت اقدس کی خدمت میں آئے اور کہا کہ مولوی محمد حسین صاحب کہتے ہیں کہ آپ اس طرح دعا کریں کہ الہی میں نے جو اپنی کتابوں میں نبوت کا دعوی کیا ہے ملائکہ سے انکار کیا ہے اگر ان سب کفریات میں میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر لعنت بھیج۔یہ احمقانہ بات سن کر سب لوگ ہنس پڑے اور خود خواجہ صاحب بھی مسکرا دئیے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ ہی سوچئے کہ میں تو اپنے آپ کو امت محمدیہ کا ایک فرد سمجھتا ہوں اور ایسی باتوں کا منہ پر لانا خود کفر جانتا ہوں پھر یہ کیسے کہوں۔یہ کہہ کر حضرت اقدس نے وہ خط خواجہ صاحب کے ہاتھ میں دے دیا کہ یدانسی کی تحریر ہے آپ ان کو دکھا ئیں۔اور چونکہ وقت گزرتا جاتا ہے اس لئے مباہلہ پر آمادہ کریں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ایک شاگر د شیخ عبد العزیز صاحب نے جو یہ خط دیکھا تو کہا کہ یہاں تو صاف لکھا ہے کہ مباہلے کے سوا کسی فریق کو وعظ کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔اور وہ خواجہ صاحب اور نشی غلام قادر صاحب فصیح کو ساتھ لے کر مولوی محمد حسین صاحب کے پاس گئے اور انہوں نے اور دیگر معزیزین نے بہت زور لگایا مگر مولوی صاحب کی تو مباہلہ سے جان جاتی تھی وہ بھلا کیسے تیار ہوتے۔عوام میں ان کے اس کھلے گریز کے بڑے چرچے ہوئے۔حضرت اقدس نے یہ دیکھا تو خود ہی مولوی عبد الحق صاحب کے ساتھ مباہلہ کرنے کھڑے ہو گئے۔سب مرید اور دوسرے لوگ صف بستہ پیچھے کھڑے تھے۔حضور نے اس وقت ایسے درد ناک پیرایہ میں تین بار بلند آواز سے دعا کے الفاظ دہرائے کہ عید گاہ آہ و فغاں سے میدان حشر کا نمونہ بن گئی اور کئی آدمی بخش کھا کر گر پڑے۔حضور نے اس مباہلے میں مولوی عبدالحق صاحب کے خلاف کوئی بددعا نہیں کی۔صرف اپنے متعلق خدا تعالٰی سے یہ دعا کی کہ اگر میں اپنے دعوے میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالٰی مجھے ہلاک کر دے۔اور پھر اپنے معتقدات پر ایک زبردست تقریر فرمائی آپ کی یہ تقریر اتنی موثر تھی کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی کے ایک