تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 466 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 466

تاریخ احمدیت جلدا ۴۶۵ کفر علماء کو مباہلہ کی پہلی دعوت سفر لاہور حضرت اقدس مسیح موعود اس وقت تک علماء کو اپنے دعوی کی سچائی کے لئے قرآن وحدیث کے علاوہ آسمانی نشان کی طرف توجہ دلا رہے تھے لیکن اب جب کہ آپ تبلیغ حق کا ایک ابتدائی مرحلہ طے کر چکے تھے آپ کو اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ آپ ان تمام علماء کو جو آپ کو محض جزئی اختلاف یا اپنی سج فہمی کے باعث ابھی تک کافر کے جاتے ہیں مباہلہ کا چیلنج دیں۔چنانچہ حضرت اقدس نے ۱۰- دسمبر ۱۸۹۲ء کو علماء وقت کو مباہلہ کی پہلی دعوت عام دی۔اور مباہلہ کے لئے چار ماہ کی مہلت دی۔اس دعوت میں آپ کے اولین مخاطب شیخ الکل مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور ان کے انکار کی صورت میں شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی تھے یہ دعوت حضور نے فردا فردا تمام مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پر اتمام حجت کفر علماء کو بھیجی۔مگر ان میں سے کسی کو مرد میدان بنے کی جرات نہ ہوئی۔صرف مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے آمادگی کا اظہار کیا۔مولوی عبدالحق صاحب غزنوی نے بعض علماء کو شریک مباہلہ کرنے کی در پردہ بڑی جدوجہد کی مگر غزنوی خاندان کے اکابر خود بھی گریز کر گئے اور ان کو بھی منع کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود نے ان کی آمادگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے ۱۰ ذی قعدہ ۱۳۱۰ھ مطابق ۲۷ مئی ۱۸۹۳ء کا دن مباہلہ کے لئے تجویز فرمایا۔اور امرت سر کی عید گاہ متصل مسجد خان بهادر حاجی محمد شاہ مقام مباہلہ مقرر کیا۔نیز مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی پر اتمام حجت کے لئے اشتہار شائع کیا کہ وہ اس تاریخ کو اگر شامل مباہلہ نہ ہوئے تو سمجھا جائیگا کہ انہوں نے اپنے فتویٰ تکفیر سے رجوع کر لیا ہے۔اس اشتہار پر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے مجبور آچند شرائط پر مباہلہ کرنا منظور کر لیا۔اور حضرت اقدس کی خدمت میں بذریعہ خط وہ الفاظ بھی بھیجوا دئیے جن میں وہ مباہلہ کرنا چاہتے تھے۔حضور نے بذریعہ اشتہار امرتسر کے مسلمانوں کو تحریک فرمائی کہ وہ بکثرت میدان مبالہ میں حاضر ہوں میں یہ دعا کروں گا کہ "جس قدر میری تالیفات ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہیں اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول اللہ کے فرمودہ سے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب میرے پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کا فر بے ایمان پر نہ کی ہو۔اور آپ لوگ کہیں آمین"۔