تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 465 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 465

تاریخ احمدیت جلدا سفر لاہور کی طرف سے یہ مضحکہ خیز اعلان شائع کیا کہ اگر مرزا کو درگاہ الہی میں اپنے مقبول ہونے اور دیگر علماء کے مردود ہونے کا زخم ہو تو وہ کرامت دکھائے۔کرامت ایسی ہونی چاہیے کہ اس کے جزئی و کلی حالات پوری تشریح سے شائع ہوں اور ہر خاص و عام اس تشریح کے مطابق ان کا پورا ہونا اچھی طرح دیکھ لے۔یہ کرامت دس ہفتہ میں دکھلائی جائے اور اگر اس میعاد میں مرزا ایسی کرامت دکھانے سے عاجز آجائے تو اس کے اقرار عجز کے بعد انشاء اللہ تعالی میں وہی کرامت اور آسمانی نشان جو مرزا طلب کرے گا اس کو پانچ ہفتہ کے اندر دکھا دوں گا۔حضرت اقدس جب جالندھر سے لدھیانہ آئے تو میر عباس علی صاحب نے اس فرضی صوفی کی وکالت میں حضور کو لکھا کہ ان سے مقابلہ کریں۔حضور پر نور نے بذریعہ اشتہار جواب دیا کہ اگر یہ پردہ نشین صوفی در حقیقت موجود ہے تو اسے اپنا نام شائع کرنا چاہیے۔اور اگر اس کے پاس حق ہے تو حق لے کر میدان میں آجائے مجھے جب کوئی معین شخص سامنے نظر نہیں آتا تو میں کس سے مقابلہ کروں؟ حضور کے اس مطالبے پر نہ میر عباس علی صاحب لدھیانوی کچھ بولے اور نہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ] حضور مئی کے تیسرے ہفتے میں واپس قادیان آگئے اور اس طرح آپ کے دعوئی مسیحیت کے سلسلہ میں ابتدائی سفر بخیرو خوبی ختم ہوئے اور آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔نشان آسمانی" کی تصنیف و اشاعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب سفر جالندھر کے بعد لدھیانہ میں مقیم تھے تو حضور نے "نشان آسمانی " کے نام سے ایک کتاب تصنیف فرمائی جس کادوسرا نام ”شہادت المسلمین " بھی ہے اس کتاب میں حضرت اقدس نے آنحضرت ﷺ کے علاوہ نعمت اللہ صاحب ولی اور جمال پور ضلع لدھیانہ کے ایک درویش بزرگ مجذوب گلاب شاہ صاحب کی اہم پیش گوئیوں کا شرح و سط سے ذکر فرمایا۔جو انہوں نے سالہا سال قبل مسیح و مہدی کے متعلق کر رکھی تھیں اور جو آپ کی آمد سے روز روشن کی طرح پوری ہو ئیں۔"نشان آسمانی " میں حضرت اقدس نے اپنے دعوی کی صحت معلوم کرنے کے لئے قوم کے سامنے ایک آسان تجویز یہ بھی رکھی کہ وہ آپ کے بتائے ہوئے طریق کے کہ وہ آپ کے بتائے مطابق دو ہفتہ تک خدا تعالٰی سے استخارہ کریں۔