تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 461 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 461

تاریخ احمدیت جلد سٹر لاہور جاتی ہے اور صرف ذات باری تعالٰی ہی جلوہ گر ہوتی ہے۔غرضکہ آپ نے عرش پر ایسی لطیف تقریر فرمائی کہ سننے والوں کو وجد آگیا۔شام ہو گئی۔نماز مغرب کے بعد میں مع اپنے دوست کے واپس چلا آیا۔ہم دونوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ یہ شخص صادق ہے۔دوسرے دن ہم دونوں آدمی پھر نماز ظہر کے وقت گئے حضرت اقدس نے نماز ظہر کے بعد ایک تقریر کی جس میں سورۃ فاتحہ کی تغییر فرمائی جو ایسی لطیف اور پر از معارف تھی کہ ہم دونوں عش عش کر گئے اس سے قبل یہ حقائق و معارف کہاں سنے تھے بہت عالموں کے وعظ سنے تھے مگر یہاں بات ہی کچھ اور تھی۔ان دنوں آریہ سماج کا بڑا زور تھا اس تقریر کے دوران میں ہمارے لئے ایک نئی بات یہ بھی ہوئی کہ حضرت صاحب نے آریہ سماج کے ایسے پر نچے اڑائے کہ آریہ سماج کا جتنا رعب ہمارے جیسے نو عمر طالب علموں پر تھا وہ سب بہاء منشور ا ہو گیا اور اسلام کی عظمت اور شوکت آنکھوں کے سامنے ہویدا ہو گئی۔تقریر کے بعد چند جٹ زمیندار حضرت اقدس کے گرد جمع ہو کر زور زور سے باتیں کرنے لگے۔جنہیں بھیڑ کی وجہ سے میں نہ سمجھ سکا۔ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب اور ان کے یہاں ضمناً یہ بتانا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔کہ والد اور برادر اکبر کی عقیدت و بیعت (شاعر مشرق) ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب (۱۸۷۷ء ۱۹۳۸) کے والد بزرگوار شیخ نور محمد سے متعلق ایک ضمنی نوٹ صاحب (متوفی ۱۹۲۹ء) نے مولانا عبدالکریم صاحب اور سید حامد شاہ صاحب کی تحریک پر ۹۲-۱۸۹۱ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔اور ان کے دونوں فرزند شیخ عطا محمد صاحب اور ڈاکٹر محمد اقبال صاحب بھی اپنے آپ کو جماعت میں شمار کرتے تھے۔اور حضرت اقدس سے ارادت مندانہ تعلق رکھتے تھے۔چنانچہ ڈاکٹر بشارت احمد صاحب ہی کا بیان ہے کہ "سفر سیالکوٹ کے موقعہ پر ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب جو مسجد کی ڈیوڑھی کی چھت پر چڑھے بیٹھے تھے مجھے دیکھ کر کہنے لگے دیکھو شمع پر کس طرح پروانے گر رہے ہیں"۔یہ اسی عقیدت کا نتیجہ تھا کہ دو ایک سال بعد جب سعد اللہ لدھیانوی نے حضرت اقدس کی ذات پر نهایت گندے اور لغو اعتراضات کئے تو ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب جو ان دنوں سکاچ مشن سکول سیالکوٹ میں ایف اے کے طالب علم تھے حضرت اقدس پر سوقیانہ حملے برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے اس کے جواب میں ایک نظم لکھی جس میں حضور گو " آفتاب صدق تسلیم کیا۔چند سال بعد شیخ نور محمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں بذریعہ خط درخواست کی کہ سیالکوٹ کی جماعت چونکہ نوجوانوں کی جماعت ہے اور میں بوڑھا آدمی ان کے ساتھ چل نہیں سکتا۔لہذا آپ میرا نام اس جماعت سے الگ رکھیں تاہم انکے فرزند شیخ عطا محمد صاحب