تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 460
تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۵۹ سفر لاہور دوبارہ رونق افروز ہوں اور انہیں زیارت سے فیضیاب فرما ئیں۔چنانچہ اب جو حضور لاہور تشریف لائے۔تو مولانا عبد الکریم صاحب نے احباب سیالکوٹ کی طرف سے حضرت اقدس کی خدمت میں سیالکوٹ آنے کی دعوت پیش کی۔چنانچہ اس دعوت کو آپ نے شرف قبولیت بخشا اور فروری ۱۸۹۲ء کے دوسرے ہفتہ میں سیالکوٹ تشریف لے گئے اور حکیم حسام الدین صاحب کے مکان میں فروکش ہوئے۔زائرین کا ہجوم اور پاک مجلس حضرت اقدس کے تشریف لانے کی خبر سن کر سیالکوٹ اور اس کے نواح سے زائرین کا ایک ہجوم امڈ آیا اور لوگ ذوق د شوق سے حضور کا چہرہ مبارک دیکھنے اور پاک مجلس سے فائدہ اٹھانے کے لئے آنے لگے۔ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کا بیان ہے کہ ” میں مع ایک دوست کے تیسرے پر آپ کو دیکھنے کے لئے شہر گیا۔اس وقت حکیم حسام الدین صاحب کے کوچہ میں لوگوں کا بے حد اثر دہام تھا۔ہم دونوں نوجوان لڑکے تھے گھتے ہھتے آخر اس قطار تک پہنچ گئے جو عین دروازے کے سامنے کھڑی تھی۔حضرت اقدس ایک دروازے سے نکلے اور کوچہ عبور کر کے دوسرے مکان کے دروازہ میں چلے گئے۔مجھے یہ معلوم ہوا کہ ایک نور کا جھکڑ ا نظروں کے سامنے آکر یکا یک گم ہو گیا۔میں اپنے تخیل میں کسی بزرگ کی مقدس شکل کا جو بہتر سے بہتر تصور قائم کیا کرتا تھا یہ ویسا ہی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ تھا۔میرے دل پر اتنا اثر ہوا کہ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ یہ نوارنی شکل جھوٹے کی نہیں ہو سکتی۔یہ شخص سچا ہے۔اس کے بعد ہم حکیم حسام الدین والی مسجد کے اندر گئے اور حضرت اقدس نے عصر کی نماز پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔نماز کے بعد آپ مسجد کے درمیانی در میں جنوبی ستون کے ساتھ لگ۔میٹھ گئے اور مسجد کا اند را در صحن سب لوگوں سے بھرا ہوا تھا صحن کے سامنے کی طرف ایک شہ نشین تھا پر میں اور مولوی عبد الکریم صاحب بیٹھے ہوئے تھے میری نظریں حضرت اقدس کے چہرہ پر جمی ہوئی تھیں۔اتنے میں مولوی عبد الکریم صاحب بولے کہ دیکھو چہرہ پر کس قدر نور برس رہا ہے میں نے کہا واقعی اس قدر نورانی چہرہ میں نے کبھی نہیں دیکھا لوگ مختلف مذہبی سوالات کرتے تھے جن کے آپ ایسے معقول جواب دیتے تھے کہ نہ صرف دل کو لگتے تھے بلکہ مجھے نہایت تعجب ہو تا تھا کہ مذہبی لوگوں سے ایسی معقول باتیں میں نے کبھی نہیں سنی تھیں۔کسی شخص نے ایک مرگی زدہ کی شفا کے لئے دعا بھی کروائی۔چنانچہ آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔اتنے میں مولوی عبد الکریم صاحب نے نزدیک ہو کر دریافت کیا کہ حضرت عرش کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس سے مراد سلطنت اور نفاذ ا مر بھی ہیں لیکن حال اور صاحب باطن لوگوں کی نظر میں یہ وہ مقام ہے جہاں مادی اور روحانی ہر طرح کی مخلوق کی حد ختم ہو