تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 435 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 435

تاریخ احمدیت۔جلدا مام ازالہ اوہام " کی تصنیف و اشاعت مضمون دیں تو مجھے بھیج دیا جائے۔بالا خانے پر تشریف لے گئے اور مولوی صاحب کے مضمون دینے پر منشی صاحب نے وہ لے جاکر حضور کی خدمت میں پیش کر دیا۔حضرت اقدس نے مولوی صاحب کے مضمون پر پہلے صفحہ سے لے کر آخر صفحہ تک بہت تیزی سے نظر فرمائی اور اس کا جواب لکھنا شروع کر دیا۔جب مضمون کے دو ورق تیار ہو گئے تو حضور منشی ظفر احمد صاحب کو نیچے نقل کرنے کو دے آئے۔ایک ایک ورق لے کر مولوی عبد الکریم صاحب اور عبد القدوس صاحب نے نقل کرنا شروع کیا۔اسی طرح منشی صاحب حضرت صاحب کا مسودہ لاتے اور یہ دونوں صاحب نقل کرتے رہتے۔حضرت اقدس اتنی تیزی سے لکھ رہے تھے کہ عبد القدوس صاحب جو خود بھی بڑے زور نویس تھے متحیر ہو گئے۔اور حضور کی تحریر پر انگلی کا پورا لگا کر سیاہی دیکھنے لگے کہ یہ کہیں پہلے کا لکھا ہوا تو نہیں۔منشی ظفر احمد صاحب نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہو گا۔کہ جواب پہلے سے لکھا ہوا ہے۔حضرت اقدس کی یہ حیرت انگیز قوت تصنیف دیکھ کر مولوی محمد بشیر صاحب کو حضور کی خدمت میں درخواست کرنی پڑی کہ اگر آپ اجازت دیدیں تو میں کل اپنے جائے قیام ہی سے جواب لکھ لاؤں۔حضور نے بے تامل اجازت دیدی اور پھر مولوی صاحب نے مباحثہ کے ختم ہونے تک یہی طریقہ رکھا۔کہ حضرت اقدس کا مضمون ملنے پر حضور سے اجازت لے کر اپنے جائے قیام پر چلے جاتے اور مضمون وہیں سے لکھ کر لاتے انہوں نے سامنے بیٹھ کر کوئی مضمون تحریر نہیں کیا۔اب فریقین کے تین تین پرچے ہو چکے تھے اور مولوی صاحب کے اس مسئلہ سے متعلق جو ذخیرہ تھا وہ ختم ہو چکا تھا جو کچھ انہوں نے کہنا تھا وہ انہوں نے کہہ لیا تھا۔اور حضرت اقدس نے ان کی ہر دلیل کا جواب دید یا تھا اور جو پرچے لکھے جاچکے وہ ہر منصف مزاج طالب تحقیق کے لئے کافی تھے۔مباحثہ کو خواه مخواه طول دینا وقت کو ضائع کرنا تھا۔اور جب مولوی صاحب نے سامنے بیٹھ کر لکھنے کی شرط پر عمل کرنے سے روگردانی کرلی تھی مضمون گھر سے لکھ کر لاتے تھے اور اس قسم کا مباحثہ اپنے اپنے مقام پر موجود رہ کر بھی ہو سکتا تھا اس کے لئے حضور کے دلی میں مقیم رہنے کی ضرورت نہیں تھی۔اس لئے حضور نے فریقین کے تین تین پر چے تحریر ہو جانے پر مباحثہ ختم کر دیا۔اور مولوی صاحب سے فرمایا کہ جب آپ کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں رہی تو پھر خواہ مخواہ تحریر بڑھانے سے کیا فائدہ؟ بحث ختم ہو جانے پر مولوی محمد بشیر صاحب حضرت اقدس سے ملنے آئے اور کہا کہ میرے دل میں آپ کی بڑی عزت ہے آپ کو اس بحث کے لئے جو تکلیف دی ہے اس کی معافی چاہتا ہوں۔اس مباحثہ کی روداد " الحق دہلی" کے نام سے شائع ہوئی ۱۴۵۱