تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 426 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 426

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۲۵ " ازالہ اوہام " کی تصنیف را اشاعت يعصمك من الناس - اللہ تعالی کی حفاظت کافی ہے۔ظہر و عصر کی نماز ظہر کے وقت ہی جمع کی گئی۔اور دو تین بگھیاں کرایہ کی منگائی گئیں۔ایک بگھی میں حضرت اقدس علیہ السلام سید امیر علی شاہ صاحب مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوئی اور ایک اور بزرگ - ایک بگھی میں پیر سراج الحق صاحب غلام قادر صاحب فصیح سیالکوئی اور محمد خاں صاحب کپور تھلوی اور ایک اور بزرگ اور تیسری میں حکیم فضل دین صاحب بھیروی اور بعض اور بزرگ بیٹھ گئے جن سب کی تعداد حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے حواریوں کی مانند بارہ تھی ان بزرگوں میں سے باقی چھ کے نام یہ ہیں۔شیخ رحمت اللہ صاحب منشی اروڑا خان صاحب حافظ حامد علی صاحب۔میر محمد سعید صاحب (حضرت میر ناصر نواب صاحب کے بھانجے) سید فضیلت علی صاحب منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی۔راستے میں کئی بد بخت گھات میں بیٹھ گئے کہ بندوق سے حضور پر فائر کر دیں۔لیکن خدا تعالی کی قدرت !! کہ جس راہ سے حضرت اقدس اور آپ کے خدام کو جانا تھا بگھی والوں نے کہا کہ ہم اس راہ سے نہیں جائیں گے۔گو یا خد اتعالیٰ نے اپنی حکمت سے بگھی والوں کے دل میں مخالفت ڈال دی اور بفضلہ تعالیٰ حضور بخریت مسجد جامع کے جنوبی دروازہ کی سیڑھیوں تک پہنچ کر جو آدمیوں سے بھری ہوئی تھیں۔گاڑی سے باہر تشریف لائے۔خدام کچھ حضور کے دائیں بائیں ہو گئے اور کچھ عقب میں اور حضور نهایت متانت و وقار سے سیڑھیاں طے فرما کر دروازہ مسجد کے اندر داخل ہوئے۔اور صحن مسجد سے گذر کر وسطی محراب مسجد میں رونق افروز ہو گئے۔مسجد میں بھی ہزاروں کا مجمع تھا۔جس کی تعداد اس ہجوم کی تعداد کو جو سیڑھیوں پر تھا شامل کر کے پانچ ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوگی۔حضور کے دائیں بائیں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت منشی ظفر احمد صاحب وغیرہ بیٹھے اور سامنے حضرت پیر سراج الحق صاحب اور قریب ہی کتب متعلقہ مباحثہ رکھ دی گئی تھیں۔اس اثنا میں یوروپین سپرنٹنڈنٹ پولیس اپنے ہمراہ انسپکٹر پولیس اور ایک سو سے زیادہ دردی پہنے ہوئے سپاہیوں کو لے کر آگیا۔اور حضرت اقدس کو معہ خدام حلقہ میں لے لیا۔تھوڑے وقفہ کے بعد شیخ الکل جناب مولوی سید نذیر حسین صاحب اور انکے شاگرد ابو سعید مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبد المجید صاحب انصاری دہلوی وغیرہ علماء مسجد کے شمالی دروازے سے داخل ہو کر اسی دالان میں بیٹھ گئے جس کا سلسلہ دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی شروع ہو جاتا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ان لوگوں نے مسجد میں آکر نماز عصر ادا کی اور پھر اسی دالان میں جہاں پہلے بیٹھے تھے چلے گئے۔حضرت اقدس کی طرف جو مع خدام مسجد میں تشریف رکھتے تھے نہ آئے۔اب مولوی عبد المجید صاحب انصاری وغیرہ جن میں مولوی محمد حسین بٹالوی شامل نہیں تھے اپنی