تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 406 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 406

تاریخ احمدیت۔جلدا ۴۰۵ علماء دقت کو تحریری مباحثہ کی دعوت نقشہ تھا اور حاضرین و سامعین پر بھی ایک عجیب وجد و سرور کی کیفیت طاری تھی۔با ہر مجمع کو مولوی صاحب کا جب یہ پیغام پہنچا کہ میں نے حق پالیا ہے تو سب کی زبان سے کافر کافر کا شور بلند ہوا اور گالیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی اور سب لوگ منتشر ہو گئے۔اس کے بعد علماء کی طرف سے مولوی غلام نبی صاحب کے پاس مباحثہ کے پیغام آنے لگے مولوی صاحب موصوف نے مباحثہ منظور کیا۔لیکن مباحثہ کے لئے کوئی نہ آیا مولوی غلام نبی صاحب نے اشتہار مباحثہ بھی شائع کیا کہ میں تیار ہوں۔جس کو علم کا دعوئی ہو وہ مجھ سے بحث کرے اس کے بعد مولوی غلام نبی صاحب نے یہ اشتہار دیا کہ جو شخص حضرت عیسی علیہ السلام کی (جسمانی) زندگی کے ثبوت میں قرآن شریف کی آیت صریح اور حدیث صحیح پیش کرے تو ہر آیت اور ہر حدیث پر دس روپے انعام دوں گا۔اور روپے پہلے بنک میں جمع کروا دئیے جائیں گے یہ اشتہار دیکھ کر بھی کسی کو مرد میدان بننے کی جرات نہ ہو سکی۔اب تو مولوی غلام نبی صاحب بس حضرت اقدس علیہ السلام کے ہی ہو رہے اور ان کا ایسا بحر کھلا کہ جو کوئی مولوی یا کوئی شخص آتا اس سے بات کرنے اور مباحثہ کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے اور حضرت اقدس کا چرہ ہی دیکھتے رہتے اور خوشی کے مارے پھولے نہ سماتے۔مولوی صاحب کہیں ملازم تھے وہاں سے خط آیا کہ جلد آؤ ورنہ ملازمت جاتی رہے گی اور نام کٹ جائے گا۔مولوی صاحب نے ملازمت کی کچھ بھی پروانہ کی اور کہا کہ میں نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی بیعت میں شرط کی ہے۔مجھے نوکری کی کوئی پروا نہیں ہے۔ایک روز یہ ذکر آگیا تو حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ خود ملازمت کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔اس میں اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے۔ہاں خود بخود ہی اللہ تعالیٰ اپنی کسی خاص مصلحت سے علیحدہ کر دے تو اور بات ہے ملازمت پر چلے جانا چاہیے۔پھر رخصت لے کر آجاتا۔حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ ارشاد سنگر مولوی صاحب مجبور اچلنے کو تیار ہو گئے اور دوبارہ بیعت کی تجدید کی۔جب وہ رخصت ہو کر چلنے لگے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا دل جانے کو نہیں چاہتا دیکھو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے یہ معنے ہیں۔مولوی صاحب چل دیے۔مگر کچھ دیر بعد دیکھا تو وہ ہنستے ہوئے اور خوشی خوشی بغل میں گٹھری دبائے واپس چلے آتے ہیں۔سب حیران ہوئے۔اور حضرت اقدس بھی مسکرائے۔مولوی صاحب نے بتایا میرے جاتے جاتے ریل چل دی۔بعض لوگوں نے کہا بھی کہ سٹیشن پر ٹھرو دو سرے وقت چلے جانا۔میں نے کہا جتنی دیر اسٹیشن پر لگے اتنی دیر حضور کی صحبت میں رہوں تو بہتر ہے اسٹیشن پر ٹھہرنے سے کیا فائده ؟ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔جزاک اللہ یہ خیال بہت اچھا ہے اللہ تعالیٰ کسی کے اجر کو