تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 24 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 24

تاریخ احمدیت جلدا خاندانی حالات یہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان پر لاس کی نسل سے ہے۔اور بر لاس قوم کے متعلق ہیرلڈلیم (HaroldLamb) ایسے مغربی محقق کی رائے یہ ہے کہ وہ ایشیا کے سطح مرتفع کی ایک قوم تھی جسے گذشتہ زمانے میں تمھین کہتے تھے اور بعض ترک بھی بولتے تھے۔مغلوں کے ساتھ وہ شمالی میدانوں سے آئے تھے اور اس زرخیر پہاڑی ملک میں آباد ہو گئے"۔اور انسائیکلو پیڈیا آف برٹینیکا میں لکھا ہے۔تمام میتھین قوم ایرانی الاصل تھی۔"The Entire Community Being of Iranian Originy” پس جب ممین لوگ ایرانی تھے تو ہر لاس قوم کا ایرانی ہونا بھی خود بخود ثابت ہو گیا۔بر لاس قوم کے ایرانی ہونے کا علم الالسنہ کی رو سے ایک بھاری ثبوت یہ ملا ہے کہ جہاں قدیم منگولی اور ترکی لغات میں بر لاس کا لفظ قریباً نا پید ہے وہاں فارسی لغات میں یہ لفظ بکثرت موجود ہے بلکہ عجیب تر بات یہ ہے کہ فارسی لغات نویسوں نے برلاس کے وہی معنی بتائے ہیں جن پر "فارس" کا عربی لفظ التزامی رنگ میں مستعمل ہے یعنی شجاع بالنسب۔اس ضمن میں چند فارسی لغات نویسوں کے نام یہ ہیں۔آئی آئی پی ڈ مینز (II۔Desmaisons) ایف ٹین گاس (F۔Stein gas) شیخ ابو الفضل وغیرہ۔روم دو سرا نقطہ نگاہ جس سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مرد فارس ہوناپایہ ثبوت تک پہنچتا ہے یہ ہے کہ ہیرالڈلیم (Harold Lab) اے ویمبرے (A۔Vambery) ایچ جی ریورٹی (H۔G۔Raverty) اور سرپرسی سائیکس (Sir Perey Sykes) اور دوسرے مغربی مورخین نے تسلیم کیا ہے کہ امیر تیمور برلاس قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اور اس کا باپ اس قبیلے کار کیس تھا۔اسی طرح ترک تیموری" (Memoris of Tamur میں تیمور کے باپ کی یہ دعا بھی لکھی ہے کہ خدایا مجھے ایسا فرزند عطا کر جو قبیلہ بر لاس کی عزت و شہرت کو دوبالا کرنے والا ہو"۔یہ معلوم کر لینے کے بعد کہ صاحبقران تیمور بر لاس خاندان ہی کا ایک فرد تھا بلکہ جیسا کہ اس کے شجرہ نسب سے ثابت ہے وہ امیروم جی بر لاس کی چھٹی پشت میں تھا اور حاجی برلاس مورث اعلیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حقیقی بھتیجا تھا، اب تیمور کے خاندانی کوائف پر بار یک نگاہ ڈالی جائے تو دہ سلا خالص ایرانی معلوم ہوتا ہے۔یہ صحیح ہے کہ تیمور کے بعض سوانح نگاروں نے مغل " لفظ کونا واجب وسعت دیتے ہوئے اسے رشتہ کے اعتبار سے چنگیز خاں سے ملا دیا ہے۔لیکن بالا خر خود مورخین