تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 398 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 398

تاریخ احمدیت جلدا ۳۹۷ دعوتی مسیحیت 4 + م توضیح مرام صفحه ۱۲ حواشی خود حضرت القدس نے فتح اسلام " میں ان کے متعلق تحریر فرمایا کہ اس وقت مراد آباد سے قادیان میں آکر اس مضمون کی کاپی محض اللہ لکھ رہے ہیں۔شیخ صاحب ممدوح کا صاف سینہ مجھے ایسا نظر آتا ہے جیسا آئینہ وہ مجھ سے محض اللہ غایت درجہ کا خلوص و محبت رکھتے ہیں۔ان کا دل حب اللہ سے پر ہے۔اور نہایت عجب بادہ کے آدمی ہیں میں انہیں مراد آباد کے لئے ایک شمع منور سمجھتا ہوں۔رسالہ نور احمد نمبرا مرتبہ حضرت شیخ نور احمد صاحب مطبع دوم صفحه ۲۰۵ و صفحه ۱۳ ہ رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۲ نمبر ۱۲ صفحه ۳۵۴ الحکم ۷۱۳ - جون ۱۹۳۳ صفحه ۱۳ روایت حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایده الله تعالی) - رسالہ اشاعۃ السنہ جلد ۱۲ نمبر ۱۲ صفحه ۳۵۶۳۵۴ ایضا د مکتوبات احمدیہ جلد چهارم صفحه ۲ اشاعۃ السنہ جلد ۱۳ نمبر صفحہ ۴۲ 10 مولوی سید حسین احمد صاحب بانی صدر حمیتہ العلماء ہند نے بر صغیر ہند و پاکستان کے فضائل کے متعلق ایک کتابچہ میں گذشتہ آثار و روایات کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ یہ سرزمین آفتاب نبوت کا پہلا مشرقی بنی اور اسی خطہ میں پہلے خلیفہ اللہ حضرت آدم کا ظہور ہوا تھا اور چونکہ حضرت آدم انسانوں کے ابو الانبیاء تھے اس لئے جملہ انبیاء علیہم السلام اور تمام انسانوں کے روحانی اور مادی اصل و اصول کا شمیر ہندوستان ہی سے بنایا گیا۔بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ ہرنی سے آئندہ نبی پر ایمان لانے کا مشتاق بھی اس ارض مقدس میں لیا گیا تھا۔(ملاحظہ ہو رسالہ "ہمار ا ہندوستان اور اس کے فضائل " شائع کردہ ناظم دفتر جمیعہ علماء ہند گلی قاسم جان دہلی ) اگر یہ تصریحات حقیقت پر مبنی ہیں تو مسیح موعود کا اسی خطے میں مبعوث ہونا ضروری تھا۔خصوصاً جب کہ رسول کریم ﷺ نے مہدی کو سلطان مشرق قرار دیتے ہوئے ان کے انصار کو ہندی بتایا ہے (ابن ماجہ و نسائی) رسالہ "نور احمد نمبر صفحہ اشاعۃ السنہ جلد کا نمبر ا صفحه ۲ " ۱۳ خوشی کفر کے بارے میں علماء ربانی کا کیا طریق عمل رہا ہے اس کے متعلق بطور مثال حجتہ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی پانی مدرسہ دیوبند کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے خان بہادر ڈاکٹر شیخ عبد اللہ صاحب ایڈووکیٹ علی گڑھ سرسید کا نہ ہب" کے عنوان سے لکھتے ہیں۔” مولویوں نے ان (سرسید - ناقل) کے خلاف طوفان برپا کر دیا۔کفر کے فتوے دیئے دلخراش مضامین لکھے، سرسید کے چھوٹے سے فوٹو پر گز بھر کی ڈاڑھی لگا کر اس کے اوپر لکھا ”شیطان الرجیم۔لیکن بڑے بڑے جید علماء نے کفر کے فتووں پر دستخط نہیں کئے۔حضرت مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ بانی مدرسہ دیو بند سے علماء نے کہا کہ سرسید کے خلاف کفر کے فتوے پر آپ بھی دستخط کر دیجئے۔انہوں نے فرمایا کہ میں تحقیقات کرلوں کہ آیا وہ کافر ہیں یا نہیں۔چنانچہ مولانا محمد قاسم مرحوم و مغفور نے تین سوالات لکھ کر سرسید کے پاس بھیجے وہ مع جوابات کے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں (1) سوال خدا پر آپ کا کیا عقیدہ ہے ؟ جواب خداوند تعالی ازلی ابدی مالک و صانع تمام کائنات کا ہے (۲) سوال محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے؟ جواب: بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر (۳) سوال قیامت کے متعلق آپ کا کیا عقیدہ ہے ؟ جواب: قیامت برحق ہے۔اس کے بعد مولانا محمد قاسم رحمتہ اللہ علیہ نے ان لوگوں سے کہا کہ تم اس شخص کے خلاف دستخط کرانا چاہتے ہو جو پکا مسلمان ہے"۔ر ساله "البصیر" ( چنیوٹ) جلد ۲ شمارہ نمبر ۲۰۱) تاریخ وفات فروری ۱۹۰۶ء (از جنتری با بو منظور الی صاحب ۱۹۲۱ء) مفصل حالات کے لئے ملاحظہ ہو اخبار ”پیغام صلح " لاہور