تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 386
تاریخ احمدیت۔جلدا ۳۸۵ دھونی مسیحیت السلام کی زندگی اور ان کی بجد عصری واپسی کا عقیدہ جو عام مسلمانوں میں پھیل گیا ہے اسلامی کتب میں اس کا نام و نشان بھی نہیں۔یہ محض غلط فہمی کا نتیجہ ہے جس کے ساتھ کئی بے جا جائے لگا دیئے ہیں اور بے اصل موضوعات سے اس کو رونق دی گئی ہے حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ آنے والا صحیح اس است میں سے ہو گا۔بلکہ آنحضرت ﷺ نے تو مسیح اول اور مسیح ثانی میں مابہ الامتیاز قائم کرنے کے لئے دونوں مسیحوں کا جدا جدا حلیہ بیان فرمایا ہے۔جو اس امر کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ مسیح اول اور ہے اور صحیح ثانی اور نیز مسیح ثانی کو ابن مریم کے نام سے پکارنا ایک لطیف استعارہ ہے ورنہ وہ در حقیقت امت محمدیہ میں سے ایک امام ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فتح اسلام" کی کتابت کے سلسلہ میں شیخ نور احمد صاحب مالک ریاض ہند پریس ہال بازار امرت سر کو تحریر فرمایا کہ ایک کاتب ہمارے پاس بھیج دیں ایک چھوٹا سار سالہ لکھواتا ہے ان دنوں شیخ محمد حسین صاحب مراد آبادی مرحوم ان کے ہاں کام کرتے تھے۔شیخ نور احمد صاحب نے انہی کو بھیج دیا اور حضرت اقدس نے ان سے فتح اسلام" کا رسالہ لکھوایا۔شیخ محمد حسین صاحب مرحوم کتاب کی کاپیاں لے کر امرت سرواپس آئے اور شیخ نور احمد صاحب سے کہا کہ حضرت اقدس نے اس کو چھاپنے کے لئے آپ کے پاس بھیجا ہے ان کا خیال تھا کہ نہ معلوم یہ رسالہ چھا ہیں یا نہ چھاپیں۔کیونکہ سلطنت بھی عیسائی ہے اور پادری حضرت مسیح کو خدا اور خدا کا بیٹا کہنے والے موجود ہیں ایسا نہ ہو کہ حکومت کی طرف سے کوئی باز پرس یا عتاب ہو یا یہ رسالہ ہی ضبط ہو جائے۔اور پریس والے اور کاتب بھی گرفتار ہوں۔یا کسی اور مصیبت کا سامنا ہو۔شیخ نور احمد صاحب نے اسے دیکھ کر کہا کہ میں اس کو ضرور چھاپوں گا۔چنانچہ انہوں نے یہ دور سالے بڑی عقیدت مندی کے ساتھ اپنے مطبع میں چھاپے اور قادیان پہنچا رہے۔مخالفت کا طوفان رسالہ "فتح اسلام " ابھی امرتسر میں چھپ ہی رہا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اتفاقاً امر تسر پہنچے اور انہوں نے اس رسالہ کے پروف مطبع ریاض ہند سے منگوا کر دیکھے۔اور دیکھتے ہی آگ بگولا ہو گئے۔انہیں غصہ اس بات پر تھا کہ مجھ سے اپنے دعوئی سے متعلق آپ نے مشورہ کیوں نہیں کیا۔چنانچہ انہی دنوں جب ایک شخص نے انہیں بتایا کہ حضور ایک ایسی کتاب لکھ رہے ہیں جس میں وفات مسیح کا ذکر ہے تو وہ کہنے لگے کہ انہوں نے ہم سے تو کوئی ذکر نہیں کیا۔سر حال فتح اسلام" میں آپ کا دعویٰ مسیحیت پڑھتے ہی ان کی عقیدت کا گذشتہ رنگ اڑ گیا۔اور انہوں نے لکھا کہ اس